مہاراشٹر کے معروف صنعتی و تاریخی شہر مالیگاؤں میں رونما ہوئے بھیانک فرقہ وارانہ فسادات کو پورے ۲۵ برس مکمل ہو چکے ہیں، مگر چوتھائی صدی گزر جانے کے بعد بھی فساد کے مظلومین و متاثرین کو انصاف دلانے کی تمام تر قانونی و دفتری کارروائیاں مکمل سرد مہری کا شکار ہیں۔ ۲۶ اکتوبر ۲۰۰۱ء کا سیاہ دن آج بھی ان دردناک واقعات کی یاد دلاتا ہے جس میں ۱۳ بے قصور مسلمان جاں بحق اور سینکڑوں افراد شدید طور پر زخمی ہوئے تھے۔ اس سانحے کا سب سے تلخ اور المناک پہلو یہ ہے کہ فسادات کی آزادانہ عدالتی جانچ کے لیے تشکیل دیے گئے جسٹس کے این پاٹل کمیشن کی مفصل انکوائری رپورٹ کا اب کوئی نام و نشان باقی نہیں ہے، جس سے اس اہم تحقیقاتی دستاویز کا سرے سے خاتمہ ہو چکا ہے۔
۲۰۰۱ء میں مالیگاؤں کے اندر بھڑکنے والے اس ہولناک فساد کے دوران مسلم آبادی کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا، جبکہ دوسری طرف یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے درجنوں بے گناہ مسلم نوجوانوں کو فساد بھڑکانے اور اشتعال انگیزی کے جھوٹے الزامات کے تحت سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا تھا۔ عوامی و جمہوری دباؤ کے بعد ریاستی حکومت نے بمبئی ہائی کورٹ کے سبکدوش جج جسٹس کے این پاٹل کی زیر نگرانی ایک عدالتی انکوائری کمیشن تشکیل دیا۔ کمیشن نے شب و روز کام کر کے زمینی شواہد، پولیس ریکارڈ اور عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں ایک جامع رپورٹ تیار کر کے حکومت کو سونپی تھی، لیکن افسوس کہ برسوں تک اس رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کرنے کے بجائے اسے سرد خانے میں ڈالے رکھا گیا۔
بعد ازاں ممبئی کے منترالیہ یعنی ریاستی سیکریٹریٹ کی سرکاری عمارت میں پیش آئے ہولناک آتشزدگی کے واقعے نے انصاف کے اس عمل کو ناقابل تلافی دھچکا پہنچایا۔ بتایا گیا کہ جسٹس کے این پاٹل کمیشن کی اصل رپورٹ بھی اس آگ کی لپیٹ میں آ کر جل گئی۔ جمعیۃ علماء مالیگاؤں کے سرکردہ ذمہ داران عبدالمالک سیٹھ مرحوم، مکی سیٹھ اور مولانا عبدالقیوم قاسمی نے عدالتی دستاویزات کی بازیافت اور انصاف کے حصول کے لیے ارباب اقتدار سے لے کر جسٹس کے این پاٹل تک سے ذاتی ملاقاتیں کیں، تاہم سابق جج نے بھی یہ کہہ کر لاچاری ظاہر کی کہ مرتب کردہ رپورٹ کی اصل کاپی منترالیہ میں جمع کرا دی گئی تھی اور اس کی کوئی دوسری نقل ان کے ذاتی ریکارڈ میں محفوظ نہیں۔ یوں عدالتی کمیشن کی پوری روداد خاکستر ہو کر رہ گئی۔
جسٹس پاٹل کمیشن کے روبرو بطور گواہ پیش ہونے والے سینئر صحافی عبدالحلیم صدیقی نے اس پورے عدالتی عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ کمیشن نے اس وقت ۳۰۰ سے زائد اہم گواہوں کے بیانات قلم بند کیے تھے۔ ان گواہوں میں فساد کے مظلومین، شہید ہونے والوں کے پس ماندگان، ممتاز سیاسی رہنما، سماجی کارکنان اور ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار شامل تھے۔ سوشلسٹ لیڈر نہال احمد مرحوم، جامع مسجد مالیگاؤں کے خطیب و رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی اور معروف سماجی خدمتگار میدھا پاٹکر کے بیانات نے اس عدالتی جانچ میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ عبدالحلیم صدیقی کے مطابق انہوں نے خود صحافتی شواہد، زمینی رپورٹنگ اور فسادات کی فرقہ وارانہ نوعیت کو بے نقاب کرنے والی اہم فوٹوگرافی کمیشن کے حوالے کی تھی، جس میں پولیس اور انتظامیہ کی مبینہ لاپرواہی عیاں تھی۔
انصاف کی فراہمی میں اس طویل تاخیر اور عدالتی شواہد کے یوں غائب ہو جانے نے اقلیتی سماج میں ریاستی مشینری کی غیر جانبداری پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات کے بعد انکوائری کمیشن قائم کرنا اور پھر ان کی رپورٹوں کو بغیر کسی کارروائی کے دفن کر دینا یا حوادث کی نذر ہو جانے دینا دراصل انصاف کے پورے نظام کی نفی ہے۔ جب مجرموں کو کٹہرے میں نہیں لایا جاتا اور مظلوموں کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جاتا، تو نہ صرف متاثرہ خاندانوں کا قانونی نظام سے اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ فرقہ پرست عناصر کے حوصلے مزید بلند ہوتے ہیں۔



