مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر جنین اور ملحقہ بستیوں میں قابض اسرائیلی افواج کے روز افزوں محاصرے اور انتہا پسند یہودی آبادکاروں کے منظم حملوں نے معصوم فلسطینی بچوں کے لیے حصولِ علم کو جان لیوا امتحان بنا دیا ہے۔ معصوم طلبہ کو اسکولوں تک پہنچنے کے لیے قابض فوج کی جانب سے سڑکوں پر نصب کیے گئے خاردار لوہے کے گیٹوں کے نیچے سے زمین پر پیٹ کے بل رینگ کر گزرنا پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی فلاحی تنظیم ‘سیو دی چلڈرن’ اور اقوام متحدہ کے اداروں کی تازہ ترین جائزہ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں نقل و حرکت پر وحشیانہ قدغنوں کے نتیجے میں رواں تعلیمی سال کے ابتدائی 50 دنوں کے دوران 24 ہزار 500 سے زائد فلسطینی طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں براہ راست متاثر ہوئی ہیں، جبکہ متعدد خاندان بچوں کا مستقبل بچانے کے لیے اپنی آبائی بستیاں چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
سیو دی چلڈرن اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کے مشترکہ ‘ایجوکیشن کلسٹر’ نے یکم ستمبر سے 20 اکتوبر کے درمیانی عرصے میں تعلیمی اداروں پر حملوں اور رکاوٹوں کے 174 سنگین واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔ ان غیر انسانی اقدامات کے نتیجے میں 140 اسکولوں کا تدریسی عمل درہم برہم ہوا ہے۔ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں حملوں کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد میں 121 فیصد کا خوفناک اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ تدریسی وقت کے ضیاع کی شرح 400 فیصد تک بڑھ چکی ہے، جس سے طلبہ کے 875 سے زیادہ قیمتی تعلیمی گھنٹے برباد ہو چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے تنظیم کے علاقائی ڈائریکٹر احمد الہنداوی نے اس تشویشناک صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کسی بھی بچے کو خوف کے سائے میں اسکول چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے، اور اسکول جانے والے راستوں کا پرامن ہونا بنیادی انسانی حق ہے۔
فلسطینی خبر رساں ادارے ‘وفا’ اور اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (او سی ایچ اے) کے دستاویزی شواہد کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے اندر اسرائیلی فوج نے 942 فوجی چیک پوسٹیں، آہنی باڑیں اور رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں، جن کا مقصد فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی کو عملاً مفلوج بنانا ہے۔ طوباس گورنری میں نقل و حرکت بند ہونے سے بچے اسکول نہیں پہنچ سکے، جس کے بعد ایک خاندان کو اپنے تین بچوں کو زبردستی دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا جبکہ سات بچے بنیادی تعلیم سے یکسر محروم ہو گئے۔ دوسری جانب انتہا پسند آبادکاروں نے اسکولی وینز اور گاڑیوں کو نشانہ بنانا معمول بنا لیا ہے۔ مسافر یطا کے علاقے میں الفخیط اسکول کے طلبہ کی گاڑی کو گھنٹوں محصور رکھنے کے بعد لاٹھیوں اور پتھروں سے وحشیانہ حملہ کیا گیا، جس نے پندرہ سے زائد کمسن بچوں کو شدید نفسیاتی صدمے سے دوچار کر دیا۔
یہودی آبادکاروں اور قابض فورسز کے مظالم اب کلاس رومز کے اندر تک سرایت کر چکے ہیں۔ نابلس کے قریب جالود کو-ایجوکیشنل ایلیمنٹری اسکول پر انتہا پسندوں کے مسلح دھاوے کے بعد اساتذہ کو ایمرجنسی بنیادوں پر بچوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ مشرقی یروشلم کے علاقے بیت حنینا میں اسکول سے گھر لوٹتے ہوئے طلبہ پر قابض فوج کی جانب سے آنسو گیس کے گولے داغے گئے، جبکہ راملہ کے المغیر علاقے اور سوسیہ میں اساتذہ اور طلبہ کو دورانِ سفر ماورائے عدالت حراست میں لے کر ہراساں کیا گیا۔ تعلیمی اداروں پر منظم حملوں کا یہ تسلسل دراصل فلسطینی نوجوان نسل کو جاہل اور بے بس رکھنے کی سوچی سمجھی استعماری پالیسی کا حصہ ہے۔



