سپریم کورٹ آف انڈیا نے ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن (ڈی پی ڈی پی) ایکٹ کی متنازع دفعات کو آزادی صحافت اور حق معلومات (آر ٹی آئی) کے منافی قرار دینے والی درخواست پر منگل کے روز مرکزی حکومت کو باضابطہ نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن (ڈی این پی اے) کی آئینی عرضی پر سماعت کی۔ اس اہم تنظیم میں ملک کے سرکردہ روایتی اخبارات اور نشریاتی اداروں کے ڈیجیٹل ونگز شامل ہیں، جنہوں نے قانون کی ان شقوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو صحافتی اداروں کو تحقیقاتی رپورٹنگ سے قبل متعلقہ افراد سے پیشگی رضامندی لینے کا پابند بناتی ہیں۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ مادھوی دیوان نے پرزور دلائل پیش کرتے ہوئے عدالت سے متنازع شقوں پر فوری حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی۔ انہوں نے نکتہ اٹھایا کہ اگر صحافیوں کو خبر نشر کرنے یا تحقیقات کرنے کے لیے اسی شخص کی اجازت لینی پڑے جس کے خلاف الزام ہے، تو عملی طور پر تحقیقاتی صحافت کا گلا گھونٹ دیا جائے گا اور لائیو رپورٹنگ ناممکن ہو کر نیوز رومز بند ہو جائیں گے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ یہ ضابطہ دراصل قبل از اشاعت سنسرشپ کے مترادف ہے جو پریس کی آزادی کے بنیادی حق کو سلب کر دے گا۔ بینچ نے حکومت کا باضابطہ موقف سنے بغیر یکطرفہ حکم امتناع جاری کرنے سے گریز کیا اور واضح کیا کہ شہریوں کی ذاتی پرائیویسی اور پریس کی آزادی کے حقوق کے مابین آئینی توازن تلاش کرنا ناگزیر ہے، جس کے لیے فریقین کو سننا لازمی ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت کے سامنے انکشاف کیا کہ ڈیٹا پروٹیکشن کے ابتدائی مسودات میں صحافتی سرگرمیوں کو قانونی پابندیوں سے استثنیٰ حاصل تھا، لیکن حتمی قانون اور 2025 کے قواعد میں اس استثنیٰ کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی حق معلومات (آر ٹی آئی) ایکٹ کی دفعہ 8(1)(j) میں لائی گئی ترمیم کو بھی عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے، جس کی رو سے عوامی عہدیداران اور بااثر شخصیات کی معلومات کو عام کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس تبدیلی سے بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور اقلیتوں یا کمزور طبقات کے حقوق کی پامالی سے متعلق سرکاری ریکارڈ تک صحافیوں اور عوامی کارکنوں کی رسائی مسدود ہو چکی ہے۔
قانونی ماہرین اور جمہوری حلقوں کے مطابق اس قانون کے وسیع اور غیر واضح اختیارات پریس کو ریاست اور طاقتور حلقوں کے احتساب سے روکنے کا ہتھیار بن سکتے ہیں۔ آزادانہ رپورٹنگ کی راہ میں پیچیدہ رکاوٹیں کھڑی ہونے سے عوامی مفاد، پسماندہ طبقات کے ساتھ ناانصافیوں کے انکشاف اور محروم شہریوں کی آواز کو سامنے لانے کا صحافتی فریضہ شدید متاثر ہوگا۔ جب نیوز رومز کو قانونی چارہ جوئی اور بھاری جرمانوں کے خوف میں مبتلا کر دیا جائے تو طاقتوروں کے احتساب کا جمہوری ڈھانچہ ہی بکھر جاتا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے اس حساس آئینی تنازع کو پہلے سے زیر التوا دیگر درخواستوں کے ساتھ یکجا کرتے ہوئے اگلی باضابطہ سماعت کے لیے 17 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اب سب کی نظریں مرکزی حکومت کے جوابی حلف نامے پر مرکوز ہیں کہ وہ پرائیویسی کے تحفظ کے نام پر آزادیِ اظہار اور آزاد پریس پر عائد کی گئی پابندیوں کا کیا آئینی دفاع پیش کرتی ہے۔




