ہم سے انتخابات چرانے کی کوشش ہو رہی ہے : نیتن یاہو کی ہنگامی ویڈیو

اسرائیلی پارلیمان یعنی کنیسٹ کے انتخابات کے دوران وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے روایتی ووٹروں کے لیے ایک ہنگامی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بائیں بازو کی جماعتیں مبینہ طور پر ان سے انتخابات چرانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ منگل کے روز ووٹنگ کے دوران جاری کردہ اس جذباتی اپیل میں نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ ملک کی بقا اور سلامتی خطرے میں پڑ چکی ہے۔ انہوں نے لیکود پارٹی کے حامیوں پر زور دیا کہ وہ تفریح یا گھروں میں بیٹھنے کے بجائے فوری طور پر پولنگ اسٹیشنز کا رخ کریں، کیونکہ ملک کے جنوبی علاقوں میں عرب ووٹرز کا ٹرن آؤٹ یہودی آبادی کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ دیکھا جا رہا ہے۔

نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیے گئے اپنے ویڈیو خطاب میں جنوبی علاقوں میں عرب شہریوں کی پرجوش شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے عرب رہنماؤں احمد طیبی اور منصور عباس کا نام لیا۔ انہوں نے کہا کہ عرب ووٹرز بڑی تعداد میں پولنگ مراکز کا رخ کر رہے ہیں، لہٰذا دائیں بازو کے حامیوں کو بھی اپنے خاندان کے تمام افراد کو لے کر ووٹ ڈالنے نکلنا چاہیے۔ انہوں نے ووٹروں کو متنبہ کیا کہ اگر دائیں بازو کی حکومت قائم نہ ہو سکی تو بائیں بازو اور عرب جماعتوں کا ممکنہ اتحاد ریاست کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کر دے گا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے انتخابی مہم کے دوران لیکود کے تین فنانشل افسران سے مبینہ نقد رقم برآمد ہونے کے واقعے کو بھی سیاسی مخالفت سے جوڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی۔

یروشلم میں اپنی اہلیہ سارہ کے ہمراہ حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے بعد نیتن یاہو مسلسل اپنے حامیوں کو متحرک کرنے کے لیے پیغامات جاری کر رہے ہیں۔ دوسری جانب، ان کے اہم سیاسی حریف اور سابق آرمی چیف گیڈی آئزن کوٹ نے انتخابی میدان میں سرگرم رہتے ہوئے ووٹروں کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی اور یقین دہانی کرائی کہ تبدیلی کی لہر اب رکنے والی نہیں ہے۔ سینٹرل الیکشن کمیٹی کے جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دوپہر 12 بجے تک پولنگ کی مجموعی شرح 31.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی، جس میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کا یہ طریقہ کار نیا نہیں ہے بلکہ وہ ماضی کے انتخابات میں بھی انتخابی دن عرب شہریوں کے ووٹ ڈالنے کے آئینی حق کو سیکیورٹی خطرے کے طور پر پیش کر کے دائیں بازو کے انتہا پسند ووٹروں میں خوف پیدا کرتے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غزہ اور خطے میں جاری عسکری کشیدگی، معاشی بحران اور اندرونی سیاسی ٹوٹ پھوٹ کے پس منظر میں ہونے والے ان انتخابات میں نیتن یاہو کی بقا داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ عرب شہریوں کو منظم طور پر نشانہ بنا کر انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی یہ کوشش ظاہر کرتی ہے کہ دائیں بازو کا کیمپ اپنی شکست کے خوف سے دوچار ہے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کے ماہرین کا موقف ہے کہ جمہوری نظام میں ہر شہری، خواہ وہ کسی بھی لسانی یا نسلی گروہ سے تعلق رکھتا ہو، ووٹ ڈالنے کا مساوی حق رکھتا ہے، اور کسی سربراہِ حکومت کی جانب سے اقلیتی شہریوں کے ووٹنگ رجحان کو منفی رنگ دینا جمہوری اخلاقیات کے سراسر منافی ہے۔ کنیسٹ انتخابات کے نتائج کے اثرات نہ صرف اندرونی سیاست بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے امن، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے مستقبل اور خطے کی جغرافیائی و تزویراتی صورتحال پر مرتب ہوں گے۔ نتائج کا واضح تعین پولنگ کے اختتام پر سامنے آنے والے ایگزٹ پولز اور حتمی ووٹ شماری کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔

شیئر کریں۔