نئی دہلی میں واقع مرکزی اقلیتی درسگاہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کی بحالی کا مطالبہ اتوار کو شدید کشیدگی میں تبدیل ہو گیا۔ احتجاجی مظاہرین کو زبردستی ہٹانے کی انتظامی کوششوں کے بعد سینکڑوں طلبہ نے کیمپس کا رخ کیا اور دروازے بند ہونے کے سبب گیٹ پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام تدریسی سرگرمیاں غیر معینہ مدت کے لیے آن لائن منتقل کر دی ہیں، لائبریری اور گیٹس بند کر دیے گئے ہیں جبکہ کیمپس کے اندر پانی اور بجلی کی فراہمی بھی معطل کر دی گئی ہے۔ صورت حال کو قابو میں رکھنے کے لیے جامعہ کے اطراف دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں (سی آر پی ایف) کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جس نے طلبہ کو منتشر کرنے کی کوشش کی اور متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
طلبہ 11 اکتوبر سے گیٹ نمبر 7 کے احاطے میں پرامن دھرنا دیے ہوئے تھے اور ان کا مرکزی مطالبہ 2006 سے معطل جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین کے باضابطہ انتخابات کرانا تھا۔ گزشتہ روز سیکیورٹی اہلکاروں اور نان ٹیچنگ عملے نے طلبہ کا خیمہ اکھاڑ پھینکا اور دھرنا ختم کرانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس کارروائی کے ردعمل میں طلبہ رات بھر کھلے آسمان تلے نعرے بازی اور انقلابی گیت گاتے رہے اور اتوار کو بھی احتجاج جاری رکھا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ گیٹ نمبر 7 کی مکمل بیریکیڈنگ کی گئی ہے اور ہاسٹل کے طلبہ کو ہیلتھ سینٹر جانے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اندر محصور طلبہ پینے کے صاف پانی جیسی بنیادی ضرورت کے لیے بھی باہر موجود ساتھیوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔
دوپہر کے وقت وائس چانسلر نے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ کیمپس کا دورہ کیا اور حفاظتی انتظامات کا معائنہ کیا، تاہم احتجاجی طلبہ کے ساتھ کوئی باضابطہ بات چیت کیے بغیر ہی واپس روانہ ہو گئے۔ احتجاج میں شامل طالبات نے الزام عائد کیا کہ وائس چانسلر اور چیف پراکٹر کے ساتھ مذاکرات کی آڑ میں انتظامیہ نے طاقت کا استعمال کیا اور ہاسٹل میں مقیم طلبہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ امتحانات اور تہواروں کے پیش نظر ہاسٹل خالی کر کے اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ جمہوری حقوق اور اپنے نمائندوں کے انتخاب کا حق ہر اعلیٰ تعلیمی ادارے کا لازمی حصہ ہے، جسے طویل عرصے سے سلب کیا گیا ہے۔
دوسری جانب جامعہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ تدریسی نظام کو آن لائن کر دیے جانے کے بعد کیمپس میں طلبہ کے قیام کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔ ایک انتظامی اہلکار کے مطابق اسٹاف کی عدم موجودگی اور تعطیلات کے باعث عمارتوں اور لائبریریوں کو بند کیا گیا ہے اور طلبہ سے پہلے ہی متعدد بار مذاکرات کی کوشش کی جا چکی تھی لیکن مظاہرین اپنا دھرنا ختم کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔ انتظامیہ نے زبردستی ہٹانے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر طاقت استعمال کی گئی ہوتی تو طلبہ اب بھی وہاں موجود نہ ہوتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیمپس کے تادیبی نظم و نسق کو بحال رکھنا اولین ترجیح ہے۔
ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جمہوری کلچر، طلبہ یونینوں کا وجود اور پسماندہ و اقلیتی طبقے کے نوجوانوں کی قیادت کا ابھرنا ایک آئینی ضرورت ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے تاریخی ادارے میں لگ بھگ دو دہائیوں سے اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات کا تعطل نوجوانوں میں بے چینی پیدا کر رہا ہے۔ بنیادی ضروریات منقطع کرنے اور سیکیورٹی فورسز کے سہارے مطالبات کو دبانے کی پالیسی پر سول سوسائٹی کی جانب سے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس بحران کا پرامن حل نکالنے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ نمائندوں کے درمیان براہِ راست اور سنجیدہ مذاکرات کا آغاز ناگزیر ہو چکا ہے۔




