مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور 27 اکتوبر کو ہونے والے اسرائیلی پارلیمانی انتخابات سے ٹھیک دو روز قبل وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایک غیر معمولی اور متنازع سیاسی قدم اٹھایا ہے। انہوں نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ایسی فرضی تصویر جاری کی ہے جس میں تل ابیب شہر کے اوپر ایک ہولناک ایٹمی دھماکے کا دیوہیکل بادل اٹھتا ہوا دکھایا گیا ہے। اس تصویر کے ساتھ جاری کردہ بیان میں نیتن یاہو نے ایران کے جوہری خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو ایک وجودی خطرہ درپیش ہے، اس لیے تمام اندرونی سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ان کی قیادت پر بھروسہ کیا جائے।
اس اشتعال انگیز پوسٹ کے منظر عام پر آتے ہی اسرائیلی سیاسی حلقوں میں شدید طوفان برپا ہو گیا ہے اور اپوزیشن رہنماؤں نے نیتن یاہو پر عوامی خوف و ہراس پھیلا کر انتخابی فائدہ سمیٹنے کا الزام عائد کیا ہے۔ نیتن یاہو نے اپنی تحریر میں مؤقف اپنایا تھا کہ ایران اور خطے کی مزاحمتی قوتوں کی وجہ سے سلامتی کے حالات پہلے سے کہیں زیادہ مخدوش ہو چکے ہیں، لہٰذا ملک کا اصل ہدف ایرانی کارروائی کا تدارک ہونا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق برسوں سے خطے کو جارحیت، محاصرے اور نسل کش جنگوں میں جھونکنے والی حکمران قیادت اب اپنی بقا کے لیے اپنے ہی شہریوں کو ایٹمی تباہی کے خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسرائیلی حزب اختلاف کے سرکردہ رہنما اور ڈیموکریٹس کے سربراہ یائر گولان نے اس اقدام پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم تل ابیب پر ایٹم بم گرنے کی خیالی تصاویر پھیلا رہے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ اور ان کا قریبی حلقہ شکست کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے تلے حواس کھو بیٹھا ہے। انہوں نے طنزیہ طور پر مطالبہ کیا کہ نیتن یاہو کو فوری طور پر سوشل میڈیا کے استعمال سے دور رکھا جائے کیونکہ وہ ملک کی نفسیاتی فضا کو زہر آلود کر رہے ہیں۔ گولان نے عوام پر زور دیا کہ وہ آئندہ انتخابات میں اس خوف پھیلانے والے ٹولے کو اقتدار سے باہر کر کے امن اور اعتدال پسندی کو بحال کریں۔
اسی طرح ایک اور اہم اپوزیشن لیڈر اور سابق فوجی کمانڈر گادی آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کو شدید ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ہر بار جھوٹ، سنسنی اور تباہی کے خطرات کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ آئزن کوٹ نے الزام عائد کیا کہ نیتن یاہو ایران اور غزہ کے محاذوں پر اپنے نام نہاد جنگی اہداف حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں اور اب جب ان کی سیاسی شکست یقینی دکھائی دے رہی ہے تو وہ ووٹرز کو ایٹمی فنا کے نام پر بلیک میل کرنے کی راہ پر چل پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام بیلٹ باکس کے ذریعے اس منافقانہ اور ناکام پالیسی کا کڑا احتساب کریں گے۔
مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ طویل عرصے سے جاری خونریزی، فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے پس منظر میں نیتن یاہو کی یہ مہم ظاہر کرتی ہے کہ جنگی بیانیے کو برقرار رکھنا ان کی ذاتی سیاست کی مجبوری بن چکا ہے۔




