قومی دارالحکومت نئی دہلی میں واقع تقریباً ایک صدی قدیم ریس کورس مسجد کے ممکنہ انہدام اور بے دخلی کے خدشات کے درمیان مذہبی رواداری اور باہمی احترام کی ایک نمایاں مثال سامنے آئی ہے۔ علاقے کے قریبی مندر میں گزشتہ پندرہ برسوں سے خدمات انجام دینے والے پجاری کیشو راج شاستری نے کھل کر اس تاریخی مسجد کے تحفظ کی حمایت کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ چاہے وہ مسجد ہو یا مندر، اسے کبھی مسمار نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے پریس نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام عبادت گاہیں مقدس ہیں اور ان کا احترام ہر حال میں لازم ہے۔
پجاری کیشو راج شاستری نے مسجد کے امام مولانا محمد ہارون کو اپنا پرانا اور قریبی دوست قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وہ دونوں اکثر ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرتے ہیں، گھنٹوں بات چیت ہوتی ہے اور اس خطے نے کبھی بھی کسی فرقہ وارانہ کشیدگی یا منافرت کا سامنا نہیں کیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ انتظامی کارروائی کے دوران ان کے مندر کی بجلی بھی کاٹ دی گئی تھی، تاہم حکام نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ مندر کو مسمار نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی نوٹس جاری ہوا ہے۔ پجاری اپنے چار رکنی اہل خانہ کے ہمراہ معمول کی پوجا جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ اس کے برعکس تاریخی مسجد گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے پانی اور بجلی دونوں بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ کے قریب تر واقع 53 ایکڑ پر محیط دہلی ریس کورس کلب کے احاطے میں موجود یہ تاریخی مسجد سن 2009 میں گریڈ ٹو ہیریٹیج عمارت کے طور پر باقاعدہ نوٹیفائی کی گئی تھی اور دہلی وقف بورڈ کے ریکارڈ میں باضابطہ درج ہے۔ اس عمارت میں بیک وقت تقریباً 800 نمازیوں کے باجماعت نماز ادا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ دوسری جانب طویل قانونی چارہ جوئی کے بعد مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے تقاضوں کے پیش نظر کلب اور اطراف کے رقبے کا انتظام اپنے کنٹرول میں لے رہی ہے، جس کے بعد سے تاریخی عبادت گاہ کے مستقبل کے حوالے سے سنگین تشویش نے جنم لیا ہے۔
گزشتہ جمعہ، 23 اکتوبر کو مسجد کے امام مولانا محمد ہارون نے انتہائی جذباتی مناظر کے درمیان نماز جمعہ کی امامت کی، جہاں انہوں نے نمازیوں کے سامنے اشکبار آنکھوں سے دعا کراتے ہوئے مشکل گھڑی میں صبر، استقامت اور رب کی بارگاہ میں التجا کی تلقین کی۔ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے تاحال باضابطہ انہدام کا کوئی تحریری حکم نامہ سامنے نہیں آیا ہے، تاہم بنیادی سہولیات کی کٹوتی نے نمازیوں اور مقامی مسلم آبادی کے دلوں میں گہری بے چینی پیدا کر دی ہے۔




