نئی دہلی میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق سینیئر ترین جج جسٹس سنجے کشن کول نے اپنی غیر مطبوعہ آپ بیتی میں سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ان کی آنے والی کتاب ‘ودآؤٹ فیئر آف فیور’ کے مطابق، سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے معاملے میں مرکزی حکومت کے سامنے غیر معمولی حد تک نرم اور رعایت برتنے والے تھے۔ جسٹس کول نے دعویٰ کیا ہے کہ کالیجیم کی میٹنگوں کے دوران بعض امیدواروں کے ناموں پر غور کرنے سے پہلے ہی حکومتی رضامندی جاننے کی کوششیں کی گئیں اور اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک جج امیدوار کی ذات اور پس منظر پر مرکز نے عجیب و غریب سوالات کھڑے کیے۔
دسمبر 2023 میں سبکدوش ہونے والے جسٹس سنجے کشن کول نے کتاب میں لکھا ہے کہ جون 2022 میں کالیجیم کا رکن بننے کے بعد انہوں نے چیف جسٹس کو تجویز دی تھی کہ حکومت کے دباؤ کا مل کر سامنا کیا جائے کیونکہ وہ خود چیف جسٹس نہ ہونے کے باعث زیادہ دو ٹوک موقف اختیار کر سکتے تھے۔ تاہم چندرچوڑ نے چند استثنائی واقعات کے علاوہ حکومتی تعلقات کو اکیلے ہی سنبھالنے کو ترجیح دی۔ ایک اہم واقعے کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس کول نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی چھ خالی نشستوں کو پر کرنے کے دوران پانچ ناموں پر پیشگی اتفاق ہو چکا تھا، لیکن میٹنگ سے عین قبل چندرچوڑ نے چھٹا نام پیش کیا جس پر دیگر ارکان کو سخت تحفظات تھے۔ جسٹس کول کے مطابق جب انہوں نے مخالفت کی تو چندرچوڑ نے فون کر کے حکومت کا رخ معلوم کرنے کی بات کہی، جس پر انہوں نے سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ کالیجیم کے درمیان اس طرح حکومتی اشاروں پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔
سب سے سنگین معاملہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ایک جج امیدوار کی تقرری کے وقت سامنے آیا۔ جسٹس کول کے مطابق جب اس جج کا نام زیر غور آیا تو حکومت کی جانب سے یہ عجیب منطق پیش کی گئی کہ کیا عدلیہ میں اقلیتی مذاہب کے لیے مزید نمائندگی درکار ہے، جبکہ پہلے سے دیگر مذہبی اقلیتوں کے جج موجود ہیں۔ اس کے بعد حکومت نے امیدوار کے خاندانی پس منظر اور ذات تک دریافت کی۔ جسٹس کول نے اس رویے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس سے دو ٹوک کہا تھا کہ اگر ججوں کے تقرر کا یہ غیر آئینی طریقہ کار اختیار کیا جانا ہے تو پھر کالیجیم کی ضرورت ہی کیا ہے، چیف جسٹس خود ہی براہِ راست تقرریاں کر لیں۔
جسٹس سنجے کشن کول نے عدالتی نظام کی تلخ حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ محض ایک خام خیالی ہے کہ کالیجیم نظام سیاسی دباؤ سے مکمل محفوظ ہے۔ حکومتیں ہمیشہ اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی تاک میں رہتی ہیں اور عدلیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے وقار اور آئینی خود مختاری کا ہر قیمت پر دفاع کرے۔ ان کا مشاہدہ ہے کہ حکومتی حلقے ہمیشہ ان ججوں کا زیادہ احترام کرتے ہیں جو اپنے اصولوں پر مضبوطی سے کھڑے رہتے ہیں۔ دوسری جانب سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کتاب نہیں پڑھی اس لیے وہ تفصیلی بات نہیں کر سکتے، البتہ ان کا کہنا تھا کہ کالیجیم کے اجلاس ہمیشہ خوشگوار اور باہمی احترام کے ماحول میں منعقد ہوتے رہے۔
اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کا عمل ملک کے جمہوری ڈھانچے کا حساس ترین پہلو مانا جاتا ہے۔ بالخصوص مذہبی اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور محروم گروہوں کی عدلیہ میں منصفانہ نمائندگی کے سوال پر جس طرح کے مبینہ اعتراضات سامنے آئے ہیں، اس نے آئینی اقدار پر یقین رکھنے والے حلقوں کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔




