امرتسر میں لاپتہ کشمیری نوجوان اعجاز کی مسخ شدہ لاش برآمد

جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے کوکرناگ علاقے کے ہلپورہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے اٹھائیس سالہ نوجوان اعجاز احمد ڈار کی لاش بائیس روز بعد پنجاب کے شہر امرتسر سے انتہائی خستہ حالت میں برآمد ہوئی ہے جس کے بعد وادی میں شدید رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لواحقین نے نوجوان کو بے دردی سے قتل کرنے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ لاش کی شناخت مٹانے کے لیے چہرہ مبینہ طور پر جھلسایا گیا جبکہ جسم پر تشدد کے گہرے نشانات بھی پائے گئے ہیں۔ متوفی کے والد عبدالمجید ڈار کے مطابق، ناقابل شناخت حالت میں موجود لاش کی شناخت اعجاز کے بازو پر بچپن سے بنے ایک ٹیٹو کے ذریعے ممکن ہو سکی۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق اعجاز احمد ڈار ستمبر کے آخری ہفتے میں مزدوری کی غرض سے سرینگر گیا تھا، جہاں سے وہ باقاعدگی سے گھر والوں سے رابطے میں تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے ایک ٹرک ڈرائیور اور اس کے بیٹے کے مسلسل اصرار پر اعجاز شوپیاں میں سیبوں سے لدے ٹرک پر مال لوڈ کرنے گیا اور بعد ازاں اسے ریاست سے باہر لے جایا گیا۔ کچھ روز تک رابطہ رہنے کے بعد اچانک اس کا فون بند ہو گیا اور وہ پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا۔ تشویش اس وقت شدید ہو گئی جب ڈرائیور اور اس کا بیٹا واپس لوٹ آئے لیکن اعجاز ان کے ساتھ موجود نہیں تھا، جس پر چھبیس ستمبر کو کوکرناگ پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی باقاعدہ رپورٹ درج کرائی گئی۔

متوفی کے والد نے سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ لاش کی کلائی میں اسٹیل کا ایک کڑا پہنایا گیا تھا جو اعجاز نے زندگی میں کبھی نہیں پہنا تھا۔ اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ لاش کا چہرہ مسخ کر کے اور ہاتھ میں کڑا ڈال کر سنسان مقام پر پھینکا گیا تاکہ عدم شناخت کی صورت میں غیر مسلم کی لاوارث لاش سمجھ کر آخری رسومات ادا کر دی جائیں۔ والد نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پنجاب پہنچنے کے بعد انہوں نے مقامی پولیس سے بارہا تلاش کی اپیل کی مگر تسلی بخش تعاون نہ مل سکا، تاوقتیکہ بائیس دن بعد امرتسر سول اسپتال سے لاش کی موجودگی کی اطلاع دی گئی۔

اعجاز احمد ڈار اپنے گھر کا واحد کفیل اور چھ بہنوں کا اکلوتا سہارا تھا۔ محنت مزدوری کر کے پورے کنبے کی کفالت کرنے والے اس نوجوان کی تقریباً چھ سال قبل شادی ہوئی تھی اور وہ اپنے پیچھے اہلیہ سمیت دو معصوم بچے چھوڑ گیا ہے۔ اس ناگہانی سانحے نے ایک غریب اور محنت کش خاندان کو نہ صرف گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ ان کے معاشی مستقبل اور بچوں کی پرورش پر بھی شدید سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

جموں و کشمیر پولیس کے مطابق معاملے کی جامع اور باریک بینی سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور شبہات کے دائرے میں آنے والے افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جلد حقائق سامنے لائے جائیں گے، جبکہ لاش کے پوسٹ مارٹم، فرانزک جانچ اور طبی معائنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ، تشدد اور چہرہ جلانے جیسے دعوؤں کی حتمی تصدیق ممکن ہو سکے گی۔

شیئر کریں۔