واشنگٹن نے ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کے تعطل کا شکار ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کو غیر معمولی حد تک بڑھاتے ہوئے مزید جدید جنگی بحری جہاز اور ہزاروں فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ اور بحری فوجیوں پر مشتمل یو ایس ایس میکن آئی لینڈ گروپ کو فوری طور پر خطے میں روانہ کیا جا رہا ہے۔ اس نئی پیش رفت کے نتیجے میں تقریباً 9 ہزار امریکی ملاح اور بحری فوجی خلیجی پانیوں میں تعینات کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد خطے میں فوجی طاقت کا مظاہرہ اور فوری کارروائیوں کی صلاحیت کو بڑھانا ہے۔
یہ شدید کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب ایران نے اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو بیرون ملک منتقل کرنے کے امریکی اور مغربی دباؤ کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔ ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اس معاملے پر اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے دوٹوک کہا کہ افزودہ جوہری ایندھن کا کوئی معمولی حصہ بھی ایران کی حدود سے باہر نہیں بھیجا جائے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی امریکی فوجی دھمکیوں اور دباؤ کے سائے میں مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے اور اصرار کیا ہے کہ کسی بھی بامعنی پیش رفت کے لیے ایران پر عائد یکطرفہ معاشی پابندیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔
اس پورے بحران پر تہران کے سیاسی اور عسکری حلقوں نے سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے واشنگٹن کو ایران کی سات بنیادی شرائط تسلیم کرنی ہوں گی۔ ان شرائط میں ایرانی بندرگاہوں کی اقتصادی ناکہ بندی کا فوری خاتمہ اور بین الاقوامی سطح پر منجمد کیے گئے تمام ایرانی اثاثوں کی مکمل بحالی سر فہرست ہے۔ دوسری طرف واشنگٹن انتظامیہ کا موقف ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گی جس سے ایران کے جوہری ہتھیار بنانے کا راستہ مکمل طور پر مسدود نہ ہو۔ تہران حکومت بارہا یہ وضاحت کر چکی ہے کہ اس کا جوہری پروگرام محض پرامن مقاصد اور شہری ضروریات کے لیے ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس عسکری کھینچ تان کے مسلم دنیا اور خطے کے استحکام پر دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خطے کی اہم بندرگاہوں، آبی گزرگاہوں اور تیل کی سپلائی لائنز کے تحفظ پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، جبکہ ایک نئی جنگ کے امکانات سے مسلم ممالک کے شہریوں میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ غیر ملکی فوجوں کے بڑے اجتماع اور جارحانہ بیانات نے خلیج میں بحری تجارت اور معاشی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جس سے توانائی کا عالمی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
بڑھتی ہوئی محاذ آرائی کو روکنے کے لیے سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ خطے کے اہم اسٹیک ہولڈرز، جن میں پاکستان کی عسکری قیادت اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف شامل ہیں، تہران کے حالیہ دورے مکمل کر چکے ہیں تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی غلط فہمیوں اور بے اعتمادی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں سیکیورٹی ماہرین کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آیا واشنگٹن سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتا ہے یا یہ عسکری تیاری کسی سنگین اور تباہ کن جغرافیائی تصادم کی طرف جائے گی۔




