بریکنگ نیوز : جنتر منتر احتجاج کیس: سی جے پی کے سوربھ داس اور آشوتوش رانکا جیل سے رہا

دہلی کی ایک اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ (SEM) عدالت نے بدھ کے روز کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے سرکردہ رہنماؤں سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کی عدالتی حراست ختم ہونے کے بعد ان کی رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ ان دونوں رہنماؤں کو 13 اکتوبر کو جنتر منتر پر احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ رہائی کا حکم ملنے کے بعد سوربھ داس نے اپنے ایک بیان میں اس پیشرفت کو سچائی کی جیت قرار دیا ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق، سی جے پی کے ان رہنماؤں کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں ان کی جانب سے ضمانتی دستاویزات جمع کرائی گئیں۔ دہلی پولیس کے ایک سینیئر افسر نے تصدیق کی ہے کہ سوربھ داس اور آشوتوش رانکا نے مستقبل میں امن و امان برقرار رکھنے کی تحریری یقین دہانی کرائی ہے، جس کے بعد ان کی رہائی ممکن ہو سکی۔ اس کارروائی سے کچھ دیر قبل، ان رہنماؤں نے دہلی ہائی کورٹ میں اپنی حراست میں توسیع کے خلاف دائر کردہ عرضی بھی واپس لے لی تھی، کیونکہ ہائی کورٹ نے انہیں نچلی عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنے کی ہدایت دی تھی۔

یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی تھی جب سوربھ داس اور آشوتوش رانکا نے مبینہ طور پر ایک مقفل گیٹ پھلانگ کر قومی پرچم کے ساتھ جنتر منتر میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔ اس سے قبل دہلی پولیس نے جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی مجاز فہرست سے خارج کر دیا تھا۔ سی جے پی کے یہ حالیہ مظاہرے دراصل چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے سے جڑے ہیں، جن پر انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اس کیس نے ملک بھر میں جمہوری حقوق، اپوزیشن کی آواز اور پرامن احتجاج کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے اپنے ساتھیوں کی حراست پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ رہنما ان کے خاندان کی طرح ہیں اور تہوار کے موسم میں ان کی قید تکلیف دہ تھی۔ متعدد سیاسی رہنماؤں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی ان گرفتاریوں پر شدید تنقید کی گئی تھی اور انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا تھا۔

سی جے پی کی جانب سے الیکشن کمیشن کے خلاف مہم کا مستقبل ابھی طے ہونا باقی ہے۔ پارٹی نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے رہنماؤں کی رہائی کے بعد اپنی آئندہ کی حکمت عملی مرتب کریں گے۔

شیئر کریں۔