ایس ائی آر معاملہ : 23 اکتوبر کو پورے ملک میں ‘پیپلز مارچ’ کا اعلان

نئی دہلی: ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عوامی اتحاد ’پیپلز اگینسٹ ایس آئی آر‘ نے 23 اکتوبر کو ملک بھر میں ’جمہوریت کی بحالی کا عوامی مارچ‘ نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ اتحاد نے پارلیمنٹ سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری مواخذے، ایس آئی آر کے پورے عمل کی منسوخی، انتخابی فہرستوں کے عوامی آڈٹ اور تمام اہل شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

نئی دہلی سے جاری اپنے تفصیلی بیان میں اتحاد نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے ذریعے مبینہ طور پر 13 کروڑ سے زائد شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم کیا گیا ہے۔ تنظیم نے اس عمل کو انتخابی شفافیت اور شہریوں کے آئینی حقوق کے لیے سنگین تشویش کا معاملہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے پورے عمل کو فوری طور پر روکا جائے۔

کسانوں، مزدوروں، طلبہ اور اقلیتوں کی تنظیموں کا مشترکہ محاذ

اتحاد کے مطابق، 14 اکتوبر کو نئی دہلی کے سرجیت بھون میں کسانوں، مزدوروں، طلبہ، نوجوانوں، خواتین، آدیواسیوں، دلتوں اور اقلیتوں کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں کا ایک اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں اس مشترکہ محاذ کی بنیاد رکھی گئی۔ اجلاس میں ایس آئی آر کے طریقۂ کار اور انتخابی فہرستوں سے اہل ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کے خدشات پر تشویش ظاہر کی گئی۔

تنظیم نے چیف الیکشن کمشنر پر الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر فارم 6 سمیت انتخابی دستاویزات اور طریقۂ کار میں تبدیلیاں کی گئیں، جن کا مقصد حقیقی ووٹروں کو انتخابی فہرستوں سے خارج کرنا ہے۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ انتخابی قوانین میں تبدیلی کا اختیار پارلیمنٹ کے دائرۂ کار میں آتا ہے، اس لیے اس معاملے کی قانونی جانچ ہونی چاہیے اور اگر آئینی حلف کی خلاف ورزی ثابت ہو تو متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

ایس آئی آر میں معمولی تبدیلی نہیں، مکمل منسوخی کا مطالبہ

پیپلز اگینسٹ ایس آئی آر نے واضح کیا ہے کہ وہ انتخابی نظرثانی کے عمل میں محض معمولی اصلاحات یا جزوی تبدیلیوں کو قبول نہیں کرے گا۔ اتحاد کے اہم مطالبات میں ایس آئی آر کی مکمل منسوخی، انتخابی فہرستوں کا عوامی آڈٹ، تمام اہل شہریوں کے حقِ رائے دہی کا تحفظ اور الیکشن کمشنرز ایکٹ 2023 کو واپس لینا شامل ہے۔

تنظیم نے خدشہ ظاہر کیا کہ انتخابی فہرستوں کی اس مشق سے پسماندہ طبقات، دلتوں، آدیواسیوں اور اقلیتوں کے ووٹنگ کے حق پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ اتحاد کے مطابق، انتخابی عمل کی شفافیت اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری جمہوری نظام پر عوام کے اعتماد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

دارالحکومت سے تحصیل ہیڈکوارٹرز تک احتجاج کی تیاری

اعلان کردہ پروگرام کے مطابق، 23 اکتوبر کو ملک کے دارالحکومت، ریاستی دارالحکومتوں، ضلعی مراکز اور تحصیل ہیڈکوارٹرز میں احتجاجی مارچ اور مظاہرے کیے جائیں گے۔ مظاہرین قومی پرچم تھام کر پرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کریں گے۔

اتحاد کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ اگر پولیس یا انتظامیہ نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی تو وہ سڑکوں پر ہی پرامن انداز میں ’عوامی پارلیمنٹ‘ کے اجلاس منعقد کریں گے۔ ان نشستوں میں انتخابی اصلاحات، ووٹنگ کے حق اور جمہوری اداروں کے تحفظ پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ پروگرام کا اختتام جمہوری حقوق کے تحفظ کے عہد اور قومی ترانے کے ساتھ کرنے کا منصوبہ ہے۔

جنتر منتر کو احتجاجی مقامات سے خارج کرنے پر اعتراض

اتحاد نے دہلی کے جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے خارج کیے جانے کے فیصلے کی بھی مذمت کی ہے اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج جمہوری معاشرے میں عوامی مطالبات پیش کرنے کا اہم ذریعہ ہے اور اس کے لیے مناسب مقامات کی دستیابی ضروری ہے۔

اپوزیشن اور شہری حقوق کی تنظیموں کی شرکت متوقع

بیان کے مطابق، انڈیا بلاک سے وابستہ حلقوں سمیت متعدد شہری حقوق کی تنظیموں اور عوامی پلیٹ فارمز کی اس مارچ میں شرکت متوقع ہے۔ اس پیش رفت کے بعد ایس آئی آر کا معاملہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی سے آگے بڑھ کر سیاسی نمائندگی، شہری حقوق اور الیکشن کمیشن کے کردار سے متعلق ایک وسیع تر بحث کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

اب توجہ 23 اکتوبر کے احتجاج اور اس پر حکومت و پارلیمنٹ کے ممکنہ ردعمل پر مرکوز ہوگی۔ تاہم، ووٹروں کے اخراج سے متعلق اعداد و شمار اور انتخابی طریقۂ کار میں مبینہ غیر قانونی تبدیلیوں کے الزامات کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ سرکاری ریکارڈ کی جانچ اہم ہوگی۔

فکروخبر تجزیہ: ایس آئی آر پر جاری تنازع محض انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق ہر اہل شہری کے حقِ رائے دہی اور انتخابی نظام پر عوامی اعتماد سے بھی ہے۔ جہاں انتخابی فہرستوں کی درستگی ضروری ہے، وہیں اس عمل میں شفافیت، مناسب سماعت اور ناموں کے اخراج کے خلاف مؤثر اپیل کا حق بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔ 23 اکتوبر کا مارچ اس بات کا امتحان ہوگا کہ عوامی خدشات کو کس حد تک مؤثر انداز میں پارلیمانی اور قانونی سطح پر اٹھایا جاتا ہے۔

شیئر کریں۔