سی جے پی رہنماسوربھ داس اور آشوتوش رانکا کی ضمانت پر سماعت میں تاخیر، دہلی پولیس پر عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام

قومی دارالحکومت نئی دہلی میں اتوار کے روز کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رہنماؤں سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کی ضمانت پر سماعت اس وقت تعطل کا شکار ہو گئی جب مقررہ وقت پر متعلقہ اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) تھانے نہیں پہنچے۔ انسانی حقوق کے کارکنان اور تنظیم کے نمائندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ دہلی پولیس کی جانب سے ضمانت کے عمل کو جان بوجھ کر التوا میں ڈالا جا رہا ہے۔ سماجی کارکن رتنا سنگھ کے مطابق، چار ضامنوں کو بھی بنا کسی ٹھوس قانونی جواز کے مسترد کر دیا گیا، جس کی وجہ سے زیر حراست رہنماؤں کی رہائی کا معاملہ مزید لٹک گیا۔

سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو چودہ اکتوبر کو پانچ روزہ عدالتی تحویل میں بھیجا گیا تھا، جب انہوں نے جنتر منتر پر مبینہ طور پر احتجاج کے دوران داخل ہو کر قومی پرچم لہرایا اور نعرے بازی کی تھی۔ رتنا سنگھ نے سوشل میڈیا پر تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اتوار کی صبح گیارہ بجے سے مندر مارگ پولیس اسٹیشن میں موجود تھیں، جہاں دوپہر بارہ بجے سماعت طے تھی، تاہم شام پونے پانچ بجے تک مجسٹریٹ کے فرائض انجام دینے والے متعلقہ پولیس افسر موقع پر حاضر نہیں ہوئے۔ انہوں نے یہ سنگین الزام بھی لگایا کہ پرامن جمہوری مظاہروں میں حصہ لینے پر جن شہریوں کے خلاف پہلے سے ایف آئی آر درج ہیں، انہیں مجرمانہ پس منظر کا حامل قرار دے کر ضامن بننے سے روکا جا رہا ہے۔

کارکنان نے اس پورے طریقہ کار کو جمہوری حقوق اور آئینی آزادیوں پر قدغن قرار دیتے ہوئے دہلی میں ایس ای ایم عدالتوں کے انتظامی اختیارات کے غلط استعمال پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ تنظیمی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ ملک کا قومی پرچم لہرانا یا عوامی پالیسیوں کے خلاف پرامن مظاہرہ کرنا کوئی سنگین جرم نہیں ہے، اور انتظامی تاخیر کو بطور ہتھیار استعمال کر کے شہریوں کو بلاوجہ جیل میں بند رکھنا قانون کی روح کے منافی ہے۔ ان سنگین الزامات پر دہلی پولیس کے حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

سی جے پی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی قیادت میں ووٹر لسٹوں کے خصوصی گہرے جائزے (ایس آئی آر) کے نفاذ کے خلاف مسلسل آواز اٹھا رہی ہے، جس کے تحت کروڑوں شہریوں کے ووٹنگ حقوق کے غیر محفوظ ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اس معاملے پر تنظیم نے سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل سے قانونی مشاورت مکمل کر لی ہے اور واضح کیا ہے کہ اگر انتظامیہ کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور حراست کو طول دینے کا سلسلہ بند نہ ہوا تو معاملے کو براہ راست اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کیا جائے گا۔

شہری آزادیوں کے کارکنان اور قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں اس وقت اختلافی آوازوں اور پرامن احتجاج کو دبانے کے لیے انتظامی میکانزم کو بے جا استعمال کرنے کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے

شیئر کریں۔