گجرات میں نوراتری کے دوران پُرتشدد حملہ، 21 سالہ مسلم نوجوان جاں بحق

ریاست گجرات کے ضلع کھیڑا میں واقع معروف قصبے ڈاکور میں نوراتری کے ایام کے دوران پیش آنے والے ایک پرتشدد واقعے میں اکیس سالہ مسلم نوجوان سلطان اقبال بھائی شیخ شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ یہ افسوسناک سانحہ چودہ اکتوبر کی رات تقریباً گیارہ بجے نوی نگری علاقے کی ستیم سوسائٹی کے قریب پیش آیا، جہاں دو گروہوں کے مابین تلخ کلامی خونریز تصادم میں بدل گئی۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے، جس پر قابو پانے کے لیے پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

متاثرہ خاندان کا مؤقف ہے کہ یہ کوئی باہمی تصادم نہیں تھا بلکہ مخالف گروہ کی جانب سے سلطان اور ان کے والد اقبال شیخ پر منصوبہ بند انداز میں تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔ اہل خانہ کے مطابق سلطان اپنے خاندان کا واحد سہارا اور پورے کنبے میں اکلوتا تعلیم یافتہ فرد تھا، جس کے والد اور چچا یومیہ اجرت پر مزدوری کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق نوراتری کے پنڈال سے تیز آواز میں بجنے والے ڈی جے کی موسیقی کے باعث حملے کے وقت چیخ و پکار دب کر رہ گئی، جس کی وجہ سے بروقت مدد نہ مل سکی۔

اہل خانہ نے طبی عملے اور ایمبولینس سروس پر مجرمانہ غفلت کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ سلطان کے چچا نے بتایا کہ شدید زخمی حالت میں تڑپتے ہوئے نوجوان کے لیے ایمبولینس کو آدھے گھنٹے کی تاخیر سے بلایا جا سکا، جبکہ خون کا بہاؤ روکنے کی تمام گھریلو کوششیں ناکام رہیں۔ لواحقین کے مطابق جب زخمی سلطان کو فوری طور پر ڈاکور کے مقامی سرکاری اسپتال پہنچایا گیا تو وہاں کے عملے نے ابتدائی مرہم پٹی یا جان بچانے کے اقدامات کے بغیر انہیں دوسرے شہر ریفر کر دیا۔ تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت طے کر کے جب انہیں نڈیاڈ کے اسپتال منتقل کیا گیا، تو وہاں کے ڈاکٹروں نے سلطان کو مردہ قرار دے دیا۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق تصادم کی بنیاد مقامی انتخابی سیاست، ووٹنگ کے رجحانات اور بلدیاتی انتخابات میں ایک آزاد امیدوار کی حمایت سے متعلق مباحثہ بنی۔ اس جھڑپ کے نتیجے میں سلطان کے والد سمیت مجموعی طور پر آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔ کھیڑا ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ وجے پٹیل کے مطابق پولیس نے دونوں فریقین کی شکایات پر کراس ایف آئی آر درج کرتے ہوئے سولہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی ہے اور دونوں جانب سے آٹھ آٹھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

مقامی مسلم رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے سوگوار خاندان سے ملاقات کر کے واقعے کی مذمت کی ہے اور اسے پسماندہ و اقلیتی شہریوں کے عدم تحفظ کی ایک اور افسوسناک مثال قرار دیا ہے۔ اقلیتی حقوق کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اکثریتی آبادی والے علاقوں میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے بعد معاملات کو باہمی جھڑپ کا رنگ دے کر اصل ملزمان کو رعایت دینے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت اور اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ علاج میں غفلت برتنے والے طبی عملے کے خلاف انکوائری بٹھائی جائے اور سلطان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

ڈاکور قصبے میں احتیاطی تدابیر کے تحت فلیگ مارچ اور سیکیورٹی سخت رکھی گئی ہے تاکہ حالات کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور موبائل ویڈیوز کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملے کے اصل محرکات اور ہتھیار لہرانے والوں کی شناخت ہو سکے۔

شیئر کریں۔