آسام میں دو روزہ مسماری مہم: تین اضلاع میں 1100 سے زائد مسلم خاندان بے گھر، دہائیوں پرانی مساجد بھی منہدم

ریاست آسام میں انتظامیہ نے بڑے پیمانے پر مسماری مہم چلاتے ہوئے دو دنوں کے اندر تین اضلاع میں گیارہ سو سے زائد مسلم خاندانوں کے آشیانے مسمار کر دیئے ہیں۔ اتوار کے روز ضلع نگاؤں کے لوٹوماری لونگ جپ ریزرو فاریسٹ کے علاقے میں بلڈوزر کارروائی کے دوران چھ سو سے زائد خاندانوں کے مکانات کو زمین بوس کیا گیا۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ لوگ جنگلاتی اراضی پر غیر قانونی طور پر قابض تھے، جبکہ متاثرہ افراد نے اصرار کیا ہے کہ انہیں خود حکومت نے دہائیوں قبل یہاں باقاعدہ قانونی عمل کے تحت آباد کیا تھا۔

اس دو روزہ کارروائی کے پہلے مرحلے میں سنیچر کو نگاؤں، گولا گھاٹ اور ہوجائی اضلاع میں بھاری سیکیورٹی فورسز کی موجودگی میں پانچ سو سینتالیس خاندانوں کو بے دخل کیا گیا، جن میں نگاؤں کے تین سو چھتیس، گولا گھاٹ کے انسٹھ اور ہوجائی کے ایک سو باون خاندان شامل ہیں۔ حکومتی حکام کے مطابق متاثرین کی اکثریت بنگالی نژاد مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ کارروائی کے دوران نہ صرف رہائشی مکانات بلکہ عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، اور مقامی باشندوں کے مطابق نصف صدی پرانی دس سے زائد مساجد کو بھی بلڈوزروں کے ذریعے گرا دیا گیا۔

لوٹوماری کے رہائشیوں نے انتظامیہ کے تجاوزات کے دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ وہ یہاں تین سو ہیکٹر سے زائد اراضی پر پچھلی پانچ دہائیوں سے آباد ہیں۔ مقامی متاثرین کے مطابق 1974 میں قریبی قصبے جوریا سے بے زمین خاندانوں کو سرکاری اسکیم کے تحت یہاں منتقل کیا گیا تھا اور فی خاندان چار بیگھہ زمین الاٹ کی گئی تھی کیونکہ ان کے آباؤ اجداد محکمہ جنگلات میں محنت مزدوری انجام دیتے تھے۔ متاثرہ افراد نے گوہاٹی ہائی کورٹ سے رجوع کر کے کارروائی روکنے کی اپیل بھی کی تھی، تاہم عدالت سے کوئی عبوری ریلیف نہ ملنے کے بعد انتظامیہ نے فوری کارروائی شروع کر دی۔

اس بے دخلی کی تاریخی نوعیت واضح کرتے ہوئے آل انڈیا یونین آف فاریسٹ ورکنگ پیپل نے جون کے مہینے میں ریاستی حکومت پر زور دیا تھا کہ لوٹوماری لونگ جپ ریزرو فاریسٹ کے چار گاؤں کندرپا لونگ جپ، پڈومونی، ہاتھی جور اور نو نمبر کھیرونی کے باشندوں کو عام قابضین نہ سمجھا جائے۔ تنظیم نے واضح کیا تھا کہ ان کمیونٹیز کو برطانوی دور کے ٹونگیا سسٹم کے تحت جنگلات کی نگہداشت اور شجرکاری کے لیے بسایا گیا تھا، جس کے تحت وہ محکمہ جنگلات کے ساتھ کام کرتے ہوئے خوراک کی فصلیں اگاتے تھے۔

ریاستی ریونیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمے کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران آسام میں تقریباً انیس ہزار خاندانوں کو سرکاری زمینوں سے بے دخل کیا جا چکا ہے، جن میں بڑی اکثریت مسلم اقلیت کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی حلقوں نے اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کو بنا کسی متبادل رہائش اور بازآبادکاری کے کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار چھوڑنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ متاثرہ خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں، جن میں بچے، خواتین اور بوڑھے بنیادی ضروریات اور سر چھپانے کی جگہ سے محروم ہو چکے ہیں۔

قانونی ماہرین اور اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف ہے کہ زمینوں کے تنازعات کو حل کرنے کے لیے غیر جانبدارانہ قانونی طریقے اپنانے کی بجائے یکطرفہ مسماری شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کی پامالی کے مترادف ہے۔

شیئر کریں۔