صرف وحشی تہذیب ہی ہلاکت خیز بم کو ماں کہہ سکتی ہے : ایران کا امریکہ پر طنز

تہران اور واشنگٹن کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری اور سفارتی تلخیوں کے بیچ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے امریکی فوج کی جانب سے انتہائی تباہ کن غیر جوہری ہتھیار کے ممکنہ استعمال کے اشاروں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے امریکی فوج کے سب سے بڑے غیر جوہری ہتھیار ’میسیو آرڈیننس ایئر بلاسٹ‘ (MOAB) کو عوامی سطح پر ’مدر آف آل بمز‘ (تمام بموں کی ماں) کہے جانے پر کڑی ضرب لگائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقی زوال کی انتہا یہ ہے کہ تباہی اور خونریزی پھیلانے والے سب سے ہلاکت خیز ہتھیار کے لیے ایک مقدس رشتے کا نام استعمال کیا جا رہا ہے، جو محض ایک سفاک اور غیر انسانی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

ایرانی فوجی ترجمان نے واشنگٹن کی جانب سے جاری نفسیاتی جنگ اور عسکری دباؤ کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایسی دھمکیاں ایرانی عوام کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ جس قوم میں دشمن کے سب سے بڑے ہتھیار اور خطرے کو روزمرہ گفتگو میں بے اثر کر دینے کا حوصلہ موجود ہو، مستقبل اسی کا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عسکری برتری کے کھوکھلے دعوے اور تباہ کن ہتھیاروں کی نمائش تہران کے دفاعی ردعمل کے سامنے بے معنی ثابت ہوں گے۔

یہ سخت بیان ایرانی نگران وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل مجید ابن الرضا کے اس تفصیلی ردعمل کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے امریکی میڈیا اور فوجی حلقوں میں ایران کے خلاف اس بڑے بم کے استعمال کی قیاس آرائیوں کا براہ راست جواب دیا تھا۔ ابن الرضا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ہتھیاروں کے نام، ان کی ساخت اور بموں کا وزن زمینی حقیقتیں تبدیل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں خبردار کیا کہ ایران پر کی جانے والی کسی بھی مہم جوئی کے اثرات صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کی بھاری قیمت واشنگٹن کو اپنی عالمی ساکھ، کمزور پڑتی ملکی معیشت اور ملکی سیاست کے پیچیدہ توازن کی صورت میں چکانی پڑے گی۔

نگران وزیر دفاع نے خطے میں دفاعی توازن کا ذکر کرتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی کہ تہران کی جدید میزائل ٹیکنالوجی اور دفاعی تیاریوں نے خطے کی روایتی اسٹریٹجک مساوات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ پینٹاگون کے فیصلہ سازوں کو ایران کی مزاحمتی صلاحیت اور جوابی حملے کی طاقت کا سنجیدگی سے اندازہ لگا لینا چاہیے۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق ایرانی عسکری قیادت کا یہ پراعتماد لہجہ اس بات کا مظہر ہے کہ تہران کسی بھی ممکنہ جارحیت کا فوری اور سخت جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ تمام بیانات ان بین الاقوامی خبروں کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی احکامات کی تجدید کی صورت میں امریکی فضائیہ ایران کی توانائی کی تنصیبات اور جوہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف اپنے سب سے بڑے غیر ایٹمی بم GBU-43/B کو حرکت میں لا سکتی ہے۔ اگرچہ خلیجی خطے میں ماضی میں بھی طاقت کے توازن کو لے کر بیان بازی ہوتی رہی ہے، تاہم مقدس رشتوں کو عسکری جارحیت سے جوڑنے پر ایران کی جانب سے دیا جانے والا یہ ثقافتی و اخلاقی جواب سفارتی اور عوامی حلقوں میں گہری دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔

بین الاقوامی برادری اور مشرقِ وسطیٰ کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین نے دونوں ممالک کے درمیان اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔

شیئر کریں۔