مہاراشٹر حکومت کی جانب سے نافذ کردہ نئے تبدیلی مذہب قانون کے خلاف قانونی جنگ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں پہنچ گئی ہے۔ انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک مفاد عامہ کی عرضی داخل کر کے ’مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2026‘ کے آئینی جواز کو چیلنج کیا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ یہ قانون بھارتی آئین کے تحت شہریوں کو حاصل ضمیر کی آزادی، مذہبی خود مختاری اور پرائیویسی کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کرتا ہے۔
یہ مفاد عامہ کی عرضی اے پی سی آر مہاراشٹر کے سکریٹری شاکر شیخ کے توسط سے 14 اکتوبر کو عدالت عظمیٰ میں باقاعدہ دائر کی گئی۔ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے منظوری دیے جانے کے بعد ریاستی حکومت نے 30 جولائی 2026 کو سرکاری گزٹ کے ذریعے اس قانون کا نفاذ عمل میں لایا تھا۔ قانون کے تحت کسی بھی شخص کے اپنے عقیدے یا مذہب کو تبدیل کرنے پر سخت ضابطہ جاتی شرائط عائد کی گئی ہیں اور ان کی خلاف ورزی پر سنگین سزائیں اور جرمانے تجویز کیے گئے ہیں۔
عدالت میں داخل کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایکٹ کی مختلف دفعات آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت حاصل مذہبی تشہیر، عمل اور ضمیر کی آزادی، آرٹیکل 21 کے تحت دی گئی ذاتی آزادی اور پرائیویسی، نیز آرٹیکل 14 کے مساوات کے اصول کو براہ راست مجروح کرتی ہیں۔ عرضی گزار کے مطابق کسی بھی فرد کے لیے اپنے ذاتی عقیدے کا انتخاب اس کا بنیادی اور نجی حق ہے، لیکن اس قانون کے ذریعے ریاست کو شہریوں کے انتہائی ذاتی فیصلوں میں دخل اندازی کا غیر معمولی اختیار دے دیا گیا ہے، جو کہ جمہوری اور آئینی اقدار کے یکسر منافی ہے۔
اس قانون کی سب سے متنازع شق کے تحت اگر کوئی بھی شہری رضاکارانہ طور پر اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے، یا کوئی فرد یا ادارہ تبدیلی مذہب کی تقریب کا اہتمام کرنا چاہتا ہے، تو اسے کم از کم 60 دن پہلے مجاز سرکاری اتھارٹی کو تحریری نوٹس دینا لازمی ہوگا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون لالچ، دھوکہ دہی، دباؤ، یا زبردستی کے ذریعے کرائی جانے والی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے لایا گیا ہے، تاہم شہری حقوق کی تنظیموں اور اقلیتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ عملی میدان میں ایسے قوانین کا استعمال اقلیتی طبقات، بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کو ہراساں کرنے اور رضاکارانہ فیصلوں کو مجرمانہ رنگ دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔
مہاراشٹر سے قبل متعدد دیگر ریاستوں میں بھی اس نوعیت کے قوانین نافذ کیے جا چکے ہیں، جنہیں اکثر انسانی حقوق کے گروپس تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ مہاراشٹر کے اس قانون کے خلاف بمبئی ہائی کورٹ میں بھی ایک الگ درخواست زیر سماعت ہے جس میں دفعہ 2(اے)، 3، 6، 7 اور 9 کو آئین کے حصے سوم کے تحت غیر آئینی اور کالعدم قرار دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ پیشگی نوٹس کی شرط اور بیوروکریٹک جانچ پڑتال کا نظام نہ صرف شہریوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کرتا ہے بلکہ ان کی سماجی زندگی کو بھی غیر محفوظ بنا دیتا ہے۔
اے پی سی آر نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ قانون کے نفاذ اور چیلنج کی گئی دفعات پر فوری عبوری روک لگائے تاکہ اس کے نام پر بے گناہ شہریوں کے خلاف تادیبی کارروائیوں کا راستہ روکا جا سکے۔ درخواست میں حکومت مہاراشٹر کو فریق بنایا گیا ہے اور توقع ہے کہ سپریم کورٹ جلد ہی اس درخواست کی باقاعدہ سماعت کی تاریخ مقرر کرے گی۔




