اتر پردیش کے ضلع سیتاپور میں دلت طبقے کے ایک ۳۵ سالہ شخص کو اس کی ۱۰ سالہ معصوم بیٹی کے سامنے لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہ دلخراش واقعہ کملہ پور تھانہ علاقہ کے گائوں لدھورا کے قریب جمعرات کی شام پیش آیا، جب متاثرہ نوجوان اپنی بیٹی کے ساتھ مقامی بازار سے گھر واپس لوٹ رہا تھا۔ مقتول کی شناخت منوج گوتم کے طور پر ہوئی ہے۔ لواحقین کا الزام ہے کہ حملہ آوروں نے ذات پات پر مبنی توہین آمیز گالی گلوج کی اور اندھا دھند تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ پولیس ابتدائی طور پر اس المناک سانحے کو خاندانی دشمنی کا شاخسانہ قرار دے رہی ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق ملزمان نے لدھورا گائوں کے قریب منوج گوتم کو گھیر لیا اور بچی کے چیخنے چلانے کے باوجود ان پر لاٹھیوں سے حملہ کر دیا۔ حملے کے بعد شدید زخمی حالت میں اہل خانہ منوج کو قریبی قصبہ کسمانڈا کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد ان کی موت کی تصدیق کر دی۔ واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ایک دردناک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں مقتول کی اہلیہ اور چھوٹے بچے خون میں لت پت لاش کے پاس روتے بلکتے نظر آ رہے ہیں، جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
سیتاپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انکور اگروال نے واقعے کی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ دو خواتین سمیت چھ افراد کے خلاف بھارتیہ نیا سنہتا اور شیڈولڈ کاسٹس اینڈ شیڈولڈ ٹرائبز (پریوینشن آف ایٹروسٹیز) ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس نے اب تک چار نامزد ملزمان شبھم سنگھ، دھیریندر سنگھ اور نریندر سنگھ کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی چار خصوصی ٹیمیں مسلسل چھاپے مار رہی ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق منوج گوتم نے ماضی میں بھی ملزم فریق کے خلاف ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت شکایت درج کرا رکھی تھی، جس سے دونوں فریقوں کے درمیان دیرینہ تنازع اور سابقہ کشیدگی کی تصدیق ہوتی ہے۔ مظلوم خاندان کا کہنا ہے کہ پسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں مسلسل دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا تھا، جس کا اختتام اس وحشیانہ قتل پر ہوا۔
اس لرزہ خیز واردات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ اور بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد نے واقعے کو انتہائی دل دہلا دینے والا، شرمناک اور تشویشناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واردات میں ملوث تمام ملزمان کو فوری گرفتار کر کے شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور فاسٹ ٹریک بنیادوں پر سخت قانونی سزا یقینی بنائی جائے۔




