مغربی بنگال: پولس حراست میں 35 سالہ مسلم نوجوان کی موت، لواحقین کا تشدد کا الزام

مغربی بنگال کے ضلع بیربھوم میں چوری کے شبہ میں حراست میں لیے گئے ایک ۳۵ سالہ مسلم شہری کی تھانے میں اچانک ہلاکت کے بعد شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔ پچیارہ گاؤں کے رہائشی برجہان شاہ کو جمعرات کی شام ڈوبراج پور تھانے لایا گیا تھا، جہاں چند گھنٹوں بعد ان کی حالت غیر معمولی طور پر بگڑ گئی اور اسپتال لے جانے پر ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔ متوفی کے اہل خانہ نے پولیس پر حراست کے دوران بہیمانہ تشدد اور جان بوجھ کر طبی امداد میں تاخیر کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے، جس کے بعد مشتعل مقامی آبادی نے تھانے اور سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کیا۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ جس پور کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب مقامی لوگوں نے چوری کے شبہ میں برجہان شاہ کو پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں پولیس کے حوالے کر دیا۔ مقتول کی اہلیہ اجمیرہ بی بی کا بیان ہے کہ جب وہ تھانے پہنچیں تو ان کے شوہر کے منہ اور ناک سے خون بہہ رہا تھا اور وہ بے ہوشی کی حالت میں پڑے تھے۔ لواحقین کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے علاج کرانے کے بجائے معاملے کو ڈرامہ قرار دے کر مسترد کر دیا، ان سے بات چیت کرنے کی اجازت نہیں دی اور شناختی دستاویزات لینے کے بعد زبردستی سادہ کاغذات پر دستخط کروائے۔ حالت انتہائی نازک ہونے پر برجہان کو ڈوبراج پور مانسرائے اسپتال پہنچایا گیا، مگر تب تک ان کا انتقال ہو چکا تھا۔

متوفی کے بیٹے اسماعیل شاہ نے دعویٰ کیا ہے کہ تھانے کے اندر موجود کیمروں میں ان کے والد پر ہونے والے غیر انسانی سلوک کے شواہد محفوظ ہو سکتے ہیں، جبکہ ایک عینی شاہد شیخ جہانگیر کے مطابق شام ساڑھے چھ بجے کے قریب انہوں نے برجہان کو تھانے کے اندر نیم مردہ اور لاچار حالت میں دیکھا تھا۔ ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی بڑی تعداد میں دیہی عوام تھانے کے باہر جمع ہو گئے اور اسپتال سے ایمبولینس کی واپسی پر گاڑی کا گھیراؤ کر کے دھرنا دیا۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ اگر کسی پر چوری کا الزام تھا تو اس پر قانونی عدالتوں کے ذریعے کارروائی ہونی چاہیے تھی، نہ کہ حراست میں جان لی جائے۔ متوفی کے سسر مبارک خان نے ابتدائی طور پر تشدد کرنے والے چھ افراد کے خلاف تحریری شکایت بھی درج کرائی ہے۔

دوسری جانب ضلعی پولیس انتظامیہ نے حراستی تشدد کے تمام الزامات کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ بولپور کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ابھیشیک رائے نے پریس کو بتایا کہ برجہان شاہ کو عوام نے چوری کے شبہ میں بدترین زدوکوب کیا تھا اور پولیس نے موقع پر پہنچ کر انہیں ہجوم سے بچایا تھا۔ پولیس حکام نے مقتول پر ماضی میں نشہ آوری اور بعض معمولی شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موت ہجوم کے تشدد کا نتیجہ ہے اور معاملے کی غیر جانبدارانہ چھان بین جاری ہے۔ پولیس نے متوفی کی میت کو باقاعدہ پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا ہے تاکہ موت کی حتمی سائنسی وجہ سامنے آ سکے۔

شیئر کریں۔