عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت ڈاکٹرمولاناسعیدالرحمن اعظمی ندویؒ (مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء) کے سانحہ ارتحال پرمدرسہ ریاض الجنۃ،برولیا،ڈالی گنج میں دعائیہ نششت کا آغاز حافظ محمدانس کی تلاوت کلام پاک سے ہوا،اور مولاناؒ کے لئے ایصال ثواب وبلندئی درجات کی دعاکی گئی۔
اس موقع پر مولانا محمدشمیم ندوی نے کہاکہ مولاناؒ کی شخصیت علمی تبحر،تقوی وپرہیزگاری،قرآنی و اسلامی تعلیمات کے جوہر سے آراستہ تھی، وہ علم وحلم کے پیکر، انسان کامل کا اعلی نمونہ تھے، اپنے امتیازات وخصوصیات کو ایسانافع بنایاکہ بے شمار دینی،تعلیمی،عصری ادارں کے روح رواں اور نسلوں کے استاذومعمار بن گئے، وہ زمانہ کے تقاضو سے واقف اور حالات حاضرہ پر گہری نظر تھی، بچوں کی تعلیم و تربیت و قوم کی تعلیمی بدحا لی کی فکر ہمیشہ دامن گیر رہی،منصب سے زیادہ ذمہ داری، اور شہرت سے زیادہ خدمت کو ترجیح دی، ان کی زندگی کے اوقات انتہائی منظم اور پوری زندگی نظم وضبط کی علامت تھی، اسلامی احکام ودینی تعلیمات پر عمل کرکے ہر خاص وعام کے علاوہ علماء، دانشوروں و رہبروں کو متاثر کیا، فضولیات واصراف سے بچنے ،اوردینی تعلیمات کو عملی زندگی میںاپنانے کی تلقین کی، نیت کی درستگی واتباع سنت پر زوردیا، ان کے تمام نظریات نہ صرف انسانی ہمدردی پر مبنی تھے ، بلکہ انھیں چراغ سے چراغ جلانے کا ملکہ حاصل تھا۔
احقر کوزمانہ طالب علمی۱۹۸۶ء سے شاگرد خاص اور ۲۰۰۵ء ؍ یعنی۲۱ سال سے مولاناؒ کی رہائش گاہ سے چند قدم پر تاحیات پڑوسی ہونے کا شرف ، اور بعد نماز عصر متصلامولاناؒ کی قرآنی وعلم ادب کی محفل میں شرکت، اور اساتذہ واسٹاف،مہمان کرام، فرزند حافظ محمد انس ،چھوٹے بڑے وہم سبھی کو قرآن پڑھنے کی سعادت حاصل ہوتی، اس میںروشن دل ودماغ ،عالمانہ شان وشوکت، اور اسلامی فکر کے ساتھ مولاناؒ تشریف فرماہوتے، ؒنصیحتوںو دعائوں سے نوازتے،روحانی سکون ملتا، ہم پڑوسیوں وہر ایک کے ساتھ مولاناؒ کاحسن اخلاق، بلندکردار، شفقت ومحبت کی جویادیں ہیں ، اوردینی، ملی ،تصنیفی ،سماجی جو خدمات ہیں اسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔
توصیف کیا بیاں کریں ان کے کمال کی
ابوبکر صدیق ندوی،حافظ اطیع اللہ ندوی،سلمان ندوی،احمدمیاں،ادیب الرحمن ندوی،حافظ محمدانس،حافظ حذیفہ، ابراھیم و و طلباء نے مولاناؒکے لئے بلندئی درجات کی دعاکی ہے۔
رپورٹ : حافظ اطیع اللہ ندوی




