دھرو راٹھی اور سی جے پی لیڈران رہا، جنتر منتر پر نئے مظاہرے کی تیاری

قومی دارالحکومت نئی دہلی میں اتوار کے روز ایک بار پھر سیاسی اور عوامی سرگرمیاں شدت اختیار کر گئیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے تین کلیدی رہنماؤں اور معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کو حراست سے رہا کیے جانے کے بعد پارٹی نے جنتر منتر پر احتجاج کا نیا مرحلہ شروع کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب مظاہرین کی وسیع پیمانے پر حراست پر اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق اور حکومت ہند کے درمیان سفارتی و بیانیاتی سطح پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق اتوار کی صبح کاکروچ جنتا پارٹی کے قائدین ابھیجیت دپکے، سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو دہلی کینٹ پولیس اسٹیشن میں ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا، جہاں قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد ان کی رہائی کے احکامات جاری ہوئے۔ ان تینوں رہنماؤں کو دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پرواز کی لینڈنگ کے فوری بعد طیارے کے اندر سے تحویل میں لیا گیا تھا۔ دریں اثنا، یوٹیوبر دھرو راٹھی کو سنیچر کے روز گروگرام میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا، جنہیں رات دیر گئے رہا کر دیا گیا۔

رہائی کے فوری بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے بنیادی مطالبات کی منظوری تک جنتر منتر پر اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔ اس پیش رفت کو دیکھتے ہوئے نئی دہلی کے سیکیورٹی زون میں انتہائی سخت حفاظتی انتظامات برقرار رکھے گئے ہیں۔ پارلیمنٹ اسٹریٹ، جنتر منتر اور ملحقہ حساس علاقوں میں تقریباً تیس ہزار پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستوں کی دو سو کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ رکاوٹوں اور بیریکیڈنگ کے ذریعے راستوں کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ گزشتہ روز کے مخدوش حالات کا اعادہ نہ ہو۔ سنیچر کو احتجاج کے دوران شام تک چھ ہزار سے زائد افراد کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا۔

اس وسیع پیمانے پر انتظامی کارروائی پر عالمی سطح پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے ہندوستان میں مظاہرین اور سرگرم افراد کی بڑی تعداد میں حراست پر سوال اٹھائے۔ اس بیان پر حکومت ہند نے دوٹوک اور سخت سفارتی مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے ادارے کی یہ رائے زمینی حقائق کی غلط فہمی پر مبنی ہے اور ملک کے داخلی معاملات میں بلا جواز مداخلت کے مترادف ہے۔

نئی دہلی نے واضح کیا کہ ہندوستانی آئین تمام شہریوں کو پُرامن اجتماع اور اظہار رائے کی مکمل ضمانت دیتا ہے، جس کا تحفظ ملک کی آزاد عدلیہ، مستحکم جمہوری ادارے اور فعال میڈیا باقاعدگی سے کرتے ہیں۔ تاہم، کسی بھی جمہوری نظام میں امن و امان کے قیام اور عوامی تحفظ کی خاطر قانونی ضوابط کے تحت معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ حکومت نے بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ دنیا بھر میں ہونے والے واقعات پر یکساں اور غیر جانبدارانہ معیار اپنائیں۔

انتظامی صورتحال کے تناظر میں دہلی میٹرو ریل کارپوریشن نے گزشتہ رات بند کیے گئے تمام ریلوے اور میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی و خارجی راستے دوبارہ کھول دیے ہیں اور لائن بدلنے کی سہولت بحال کر دی گئی ہے۔ اگرچہ مسافروں کی نقل و حرکت عارضی طور پر بحال ہوئی ہے، لیکن جنتر منتر پر احتجاج کے نئے اعلان کے پیش نظر ٹریفک پولیس اور میٹرو انتظامیہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کے پیش نظر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کے لیے چوکس ہے۔

شیئر کریں۔