قومی دارالحکومت نئی دہلی میں نوجوانوں، طلبہ اور سیاسی قائدین کے جنتر منتر احتجاج کو روکنے کے لیے کیے گئے سخت ترین انتظامی اقدامات، ٹرانسپورٹ کی بندش اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے مرکزی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے دور میں ہندوستان اب ایک جمہوری ملک نہیں رہا بلکہ نریندر مودی اور امت شاہ کی مکمل آمریت کے شکنجے میں جکڑا جا چکا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تند و تیز بیان میں پرینکا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ مرکز پہلے ڈھائی سو سے زائد منتخب اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ ناروا سلوک کرتا ہے اور انہیں غیر قانونی طور پر تحویل میں لے کر آئینی حقوق کو پامال کرتا ہے، اور اس کے بعد پوری راجدھانی کو فوجی چھاؤنی میں بدل دیتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ چاروں طرف بیریکیڈنگ کھڑی کرنا، درجنوں میٹرو اسٹیشن اور ٹرینیں منسوخ کرنا، انٹرنیٹ بند کر دینا اور پرامن نوجوان لڑکے لڑکیوں پر تشدد کر کے انہیں حراست میں لینا اگر انتخابی دھاندلی کے خوف کا ثبوت نہیں تو پھر کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ گھبراہٹ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت کی مبینہ غیر قانونی حیثیت اور الیکشن کمیشن کے ساتھ گٹھ جوڑ کا پردہ چاک ہونے کے بعد جوابدہی کے خوف سے حکمران بوکھلا گئے ہیں۔
یہ پورا سیاسی بحران اس وقت پیدا ہوا جب نوجوان نسل، طلبہ تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے طریقہ کار پر شدید تحفظات ظاہر کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے لیے جنتر منتر پر احتجاج کا بگل بجایا تھا۔ دہلی پولیس کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے باوجود جب ہزاروں مظاہرین نے دارالحکومت کا رخ کیا تو انتظامیہ نے سخت کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت بھر سے تقریباً ساڑھے تین ہزار افراد کو احتیاطی تدابیر کے نام پر حراست میں لیا گیا، جن میں اپوزیشن کے کئی سرکردہ وزرائے اعلیٰ، ارکانِ پارلیمنٹ اور سینکڑوں طلبہ شامل ہیں۔
پرامن احتجاج اور اختلافِ رائے کے حق کو طاقت کے زور پر دبانے کی اس کارروائی نے ملک میں شہری آزادیوں اور آئینی ضمانتوں کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ جب ریاست انتخابی فہرستوں میں شفافیت جیسے بنیادی جمہوری مطالبے کا جواب دینے کے بجائے دارالحکومت کی سرحدیں سیل کر دے اور پبلک ٹرانسپورٹ کو مفلوج کر دے، تو اس سے جمہوری اداروں کی غیر جانبداری پر عوامی شکوک مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے متنبہ کیا کہ جمہوری اقدار کو کچلنے میں حکمرانوں کا ساتھ دینے والے تمام عناصر دراصل ملک کے آئین اور عوام کے ساتھ سنگین ناانصافی کر رہے ہیں۔
ملک گیر پیمانے پر اپوزیشن رہنماؤں کی نظربندیوں اور گرفتاریوں کے بعد پیدا شدہ یہ سیاسی کشیدگی اب مزید سنگین رخ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس معاملے کو سپریم کورٹ کے سامنے اٹھانے اور پارلیمانی سطح پر مکمل جوابدہی کا مطالبہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں مرکز اور حزبِ اختلاف کے درمیان ٹکراؤ میں شدید اضافے کا امکان ہے۔




