نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کے دوران نافذ کی گئی غیر معمولی انتظامی پابندیوں، پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے خلاف سپریم کورٹ نے اتوار کے روز خصوصی سماعت مقرر کر دی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے چھٹی کے روز اس نوعیت کی ہنگامی عدالتی کارروائی دارالحکومت میں پیدا شدہ سنگین آئینی صورتِ حال اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین پامالی کی عکاسی کرتی ہے۔ سپریم کورٹ کی باضابطہ ویب سائٹ کے مطابق، یہ مقدمہ جسٹس جوئمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل خصوصی بینچ کے روبرو کل صبح ساڑھے دس بجے سماعت کے لیے فہرست بند کیا گیا ہے۔
سینئر وکیل مینکا گروسوامی کی جانب سے دائر کی گئی حبسِ بے جا (ہبیس کارپس) اور توہینِ عدالت کی اس عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دہلی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں نے 9 اکتوبر کو جاری کردہ عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے واضح فیصلے میں ہدایت دی تھی کہ احتجاج کے انتظام کے نام پر قومی دارالحکومت میں میٹرو اور ریلوے خدمات پر مکمل پابندی عائد نہ کی جائے۔ درخواست گزار کا الزام ہے کہ عدالتی احکامات کو بالائے طاق رکھ کر درجنوں میٹرو اسٹیشن مقفل کر دیے گئے، ٹرینیں منسوخ ہوئیں اور پورے شہر کو قلعے میں تبدیل کر کے عام شہریوں کے بنیادی معمولات کو درہم برہم کر دیا گیا۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق، اس عرضی میں پرامن مظاہرین کی وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔ ہفتے کے روز دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے تقریباً چھ ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں طلبہ، وکلاء، صحافی اور سیاسی کارکنان شامل ہیں۔ کاک روچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت دِپکے اور سورَو داس سمیت دیگر قائدین کو دہلی ایئرپورٹ پر پرواز سے اترتے ہی تحویل میں لے لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سابق وزرائے اعلیٰ ممتا بنرجی، اروند کیجریوال، پنارائی وجین اور راجیہ سبھا رکن جان برٹاس سمیت متعدد سرکردہ اپوزیشن رہنماؤں کو بھی احتیاطی تدابیر کے نام پر نظربند کیا گیا جنہیں بعد میں رہا کیا گیا۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب ریاست انتخابی فہرستوں کی شفافیت اور جمہوری اصلاحات جیسے عوامی مطالبات کا جواب دینے کے بجائے پرامن شہریوں کے خلاف جارحانہ انتظامی قوت کا استعمال کرے تو عدلیہ ہی واحد آئینی پناہ گاہ رہ جاتی ہے۔ پرامن اجتماع، نقل و حرکت کی آزادی اور حبسِ بے جا کے خلاف تحفظ ہر شہری کا وہ بنیادی حق ہے جسے آئینِ ہند نے تحفظ فراہم کیا ہے۔ کسی بھی احتجاج کے دوران صحافیوں، قانونی نمائندوں اور نہتے شہریوں کو محض آواز اٹھانے پر اٹھا لینا جمہوری اقدار اور قانون کی بالادستی پر گہرے سوالات کھڑے کرتا ہے۔
اتوار کی صبح ہونے والی اس خصوصی سماعت پر اب ملک بھر کے قانونی، سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں کی نظریں مرکوز ہو چکی ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ کی خصوصی بینچ کی جانب سے دہلی پولیس اور مرکزی وزارتِ داخلہ کے اقدامات کے قانونی جواز کی جانچ متوقع ہے، جس کے بعد اعلیٰ افسران کو نوٹس جاری کیے جا سکتے ہیں یا حراست میں لیے گئے افراد کی فوری رہائی اور ٹرانسپورٹ بحالی کے عبوری احکامات سامنے آ سکتے ہیں۔




