بی جے پی عوام کی آواز دبا کر حکومت چلاتی ہے: دہلی احتجاجی پابندیوں پر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کا سخت حملہ

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر عوامی اور طلبہ تنظیموں کے مظاہروں پر عائد کی گئی پابندیوں کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مرکزی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بنگلورو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے دو ٹوک الزام لگایا کہ بی جے پی کا پورا طریقہ کار ہی شہریوں کی آواز دبانے اور اختلافِ رائے کو زبردستی خاموش کرانے کے اصول پر قائم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایک جمہوری معاشرے میں حکمرانوں کی اولین ذمہ داری عوام کی فریاد سننا ہے، نہ کہ طاقت کا بے دریغ استعمال کر کے ان کے بنیادی حقوق کو پامال کرنا۔

ڈی کے شیوکمار کا یہ ردعمل نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی اور متعدد سول سوسائٹی تنظیموں کے مجوزہ احتجاج کے پیشِ نظر دارالحکومت میں سیکیورٹی اداروں کی سخت ناکہ بندی، میٹرو اسٹیشنوں کی بندش اور درجنوں افراد کی حراست کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ہمیشہ حزبِ اختلاف، عام شہریوں اور آئینی حقوق مانگنے والے ہر شخص کی آواز کو دبا کر کام چلاتی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکمران آئین میں درج بنیادی دفعات اور جمہوری ضمانتوں کو یکسر نظرانداز کر رہے ہیں اور یہی ان کی حکومت چلانے کا مستقل طرزِ عمل بن چکا ہے۔

حالیہ دنوں میں دارالحکومت دہلی کے اندر انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرِ ثانی (ایس آئی آر) اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبات کو لے کر نوجوانوں اور سیاسی کارکنوں نے جنتر منتر پر دھرنے کا اعلان کیا تھا۔ پولیس کی جانب سے اجازت مسترد کیے جانے کے بعد پرامن مارچ کی کوشش کرنے والے مظاہرین کے خلاف وسیع پیمانے پر انتظامی پابندیاں عائد کی گئیں، جس پر ملک بھر کی اپوزیشن جماعتوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سیاسی حلقوں کا موقف ہے کہ جب بھی شہری یا پسماندہ طبقات اپنے جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، انتظامیہ پرامن مظاہروں کو روکنے کے لیے راستے سیل کر دیتی ہے۔

جمہوری نظام میں پرامن احتجاج کا حق شہریوں کا بنیادی اور آئینی استحقاق ہے، جس کے ذریعے وہ حکومت کی پالیسیوں یا اداروں کی کارکردگی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔ شہری حقوق کے ماہرین کے مطابق جب آئینی دفعات کو نظرانداز کر کے دارالحکومت میں شہریوں کے داخلے اور پرامن اجتماع پر غیر معمولی رکاوٹیں کھڑی کی جائیں تو اس سے نہ صرف جمہوری اداروں کی ساکھ مجروح ہوتی ہے بلکہ عام عوام میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس بھی گہرا ہو جاتا ہے۔

ریاستی اور قومی سطح پر اپوزیشن رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ عوامی مسائل اور انتخابی شفافیت کے مطالبات کو طاقت کے بل بوتے پر دبایا نہیں جا سکتا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاسوں اور عدالتی فورمز پر پرامن احتجاج کے حق اور شہریوں کی نقل و حرکت پر غیر ضروری پابندیوں کے اس معاملے کو بھرپور انداز میں اٹھایا جائے گا تاکہ آئین میں فراہم کردہ جمہوری حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

حکومتی پالیسیوں پر ہونے والی اس سخت تنقید نے ملک میں شہری آزادیوں اور جمہوری احتجاج کے دائرہ کار پر جاری بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی ادارے اختلافی آوازوں کو دشمنی کے بجائے عوامی ردعمل کا حصہ سمجھیں اور پرامن مکالمے کی راہیں ہموار کریں۔

شیئر کریں۔