معروف سماجی جہدکار سونم وانگچک نے نئی دہلی کے جنتر منتر پر الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج سے قبل اپوزیشن اور کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریوں اور دارالحکومت میں سیکیورٹی بندشوں پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے ملک میں پیدا شدہ صورتِ حال کو غیر اعلانیہ ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے حکومت کو انتباہ دیا ہے کہ اگر حراست میں لیے گئے تمام رہنماؤں کو کل تک غیر مشروط رہا نہ کیا گیا تو وہ ایک بار پھر بھوک ہڑتال یا پیدل مارچ شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ وانگچک نے اس سے قبل لداخ میں اپنے ماحولیاتی منصوبوں کا حوالہ دے کر احتجاج میں براہِ راست شرکت نہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، مگر پولیس کریک ڈاؤن کے بعد انہوں نے سخت موقف اپنا لیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے تفصیلی بیان میں سونم وانگچک نے کہا کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک میں ایسی کھلی اور غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کر دی جائے گی جہاں شہریوں کو اپنے آئینی مطالبات کے لیے آواز اٹھانے کی بھی اجازت نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ابھیجیت دِپکے اور دیگر تمام گرفتار رہنماؤں کو فوری رہائی نہ ملی تو وہ گاندھیائی طرز پر انشن یا پدیاترا کی راہ اختیار کریں گے۔ اس سے ایک روز قبل وانگچک نے فیض احمد فیض کے مشہور شعر میں معمولی ترمیم کر کے سیاست سے ہٹ کر لداخ کے مسائل پر توجہ دینے کی بات کہی تھی، تاہم گرفتاریوں کے بڑے سلسلے نے انہیں دوبارہ میدان میں آنے پر آمادہ کیا۔
اس سے قبل جولائی کے مہینے میں نیٹ پیپر لیک کے تنازع پر منعقد ہونے والے تاریخی احتجاج کے دوران سونم وانگچک نے اکیس روزہ بھوک ہڑتال کی تھی جس کے بعد اس وقت کے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ اس تحریک کی کامیابی کے بعد وہ لداخ واپس لوٹ گئے تھے جہاں وہ سردیوں کی تیاری، مصنوعی گلیشیئرز کی تعمیر اور ہمالیائی خطے میں سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے منصوبوں میں مصروف تھے۔ وانگچک کے مطابق وہ چاہتے تھے کہ نوجوان قیادت جمہوری طور پر آگے بڑھے، مگر جب حکومت نے پوری قیادت کو پروازوں سے اتار کر اور راستوں سے حراست میں لے لیا تو ملک کے ضمیر کا جاگنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
دارالحکومت دہلی میں پچاس سے زائد میٹرو اسٹیشنوں کی بندش، ٹرینوں کی منسوخی، انٹرنیٹ کی معطلی اور پرامن شہریوں کی نقل و حرکت پر عائد کی گئی پابندیوں نے ملک بھر میں جمہوری آزادیوں کے تحفظ سے متعلق سنگین بحث چھیڑ دی ہے۔ انسانی حقوق کے حلقوں اور آئینی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب ریاست انتخابی شفافیت اور ووٹر لسٹوں کی درستگی جیسے بنیادی سوالات کا جواب دینے کے بجائے پرامن احتجاج کو روکنے کے لیے دارالحکومت کو عملی طور پر مفلوج کر دیتی ہے تو اس سے آئینی اداروں کی غیر جانبداری پر عوامی عدم اعتماد مزید گہرا ہو جاتا ہے۔
سونم وانگچک کی اس تازہ وارننگ کے بعد مرکزی حکومت اور دہلی پولیس پر دباؤ میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے پہلے ہی اس معاملے کو عدالتِ عظمیٰ اور صدرِ جمہوریہ کے سامنے اٹھانے کا اعلان کر رکھا ہے، اور اب لداخ سے اٹھنے والی اس توانا آواز کے بعد یہ تنازع محض ایک تنظیمی مظاہرے کے بجائے وسیع تر عوامی اور آئینی تحریک کا رخ اختیار کر سکتا ہے۔




