سی ای سی اور مرکز کے خلاف اپوزیشن کا بڑا محاذ: راہل گاندھی اور کھڑگے ہزاروں کارکنوں کے ہمراہ پہنچے راج گھاٹ

نئی دہلی میں سیاسی کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب ‘انڈیا’ اتحاد میں شامل تمام اہم اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ قائدین اور اراکین پارلیمنٹ نے جمعرات کے روز مہاتما گاندھی کی یادگار راج گھاٹ کا رخ کیا۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور مودی حکومت کے خلاف مسلسل تیسرے دن سڑکوں پر اترنے والی اپوزیشن نے کھلے عام الزام عائد کیا ہے کہ ملک میں مبینہ طور پر ایک طے شدہ سازش کے تحت عوام کا حق رائے دہی چھینا گیا ہے اور آئین ہند کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

راج گھاٹ روانگی سے قبل کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے وسطی دہلی کے کناٹ پلیس میں واقع ایک ریستوران میں اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کے لیے ایک اہم مشاورتی نشست اور ظہرانے کا اہتمام کیا۔ اس اجلاس میں کانگریس کے علاوہ ترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی، سی پی آئی ایم، سی پی آئی اور راشٹریہ جنتا دل سمیت کئی دیگر جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ شریک ہوئے۔ باہمی صلاح و مشورے کے بعد تمام قائدین ایک ساتھ بسوں میں سوار ہو کر راج گھاٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ اس موقع پر پرجوش مناظر دیکھنے میں آئے جب اراکین پارلیمنٹ اور کارکنان نے بسوں کی چھتوں پر چڑھ کر قومی پرچم لہرایا اور حکومت مخالف نعرے بازی کی۔

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے میڈیا اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انتہائی سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، آر ایس ایس سربرہ موہن بھاگوت اور چیف الیکشن کمشنر نے مل کر ملک کے جمہوری عمل پر غاصبانہ تسلط قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ ملک میں ووٹ چوری کے ذریعے جمہوریت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور اس معاملے میں ملوث عناصر کو ہر صورت عوامی و قانونی سطح پر جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔

اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کے اس احتجاج کا پس منظر گزشتہ دو دنوں کی پولیس کارروائیوں سے جڑا ہوا ہے۔ احتجاج کے پہلے دن راہل گاندھی نے آکاشوانی بھون میں طویل دھرنا دیا تھا، جبکہ دوسرے دن شنگریلا چوراہے پر الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کرنے والے قائدین کو پولیس نے تحویل میں لے لیا تھا۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ تقریباً تین سو اراکین پارلیمنٹ پرامن مظاہرہ کرنا چاہتے تھے لیکن انتظامیہ نے طاقت کا استعمال کر کے انہیں جمہوری حق کے استعمال سے روکا۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے راج گھاٹ پہنچنے کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مہاتما گاندھی، پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل جیسے رہنماؤں نے ملک کے ہر شہری کو مساوی ووٹ کا اختیار دلانے کے لیے قربانیاں دی تھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ راج گھاٹ پر دھرنا اور پرامن دعا کا مقصد اقتدار کے ایوانوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ عوام کے آئینی اور جمہوری حقوق پر کوئی بھی ڈاکہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس پیش رفت نے آئندہ دنوں میں حکومت اور متحدہ اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ مزید بڑھنے کے واضح اشارے دے دیے ہیں۔

شیئر کریں۔