لکھنو : سگریٹ لانے سے انکار پر 12 سالہ مسلمان لڑکے پر بہیمانہ تشدد، ہجوم کا گھر اور مسجد پر پتھراؤ

اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کے تاریخی چوک علاقے میں ایک افسوسناک اور اشتعال انگیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں بڑی کالی مندر چوک کے قریب ایک بارہ سالہ مسلمان بچے عبداللہ کو سگریٹ لانے سے انکار کرنے پر بدترین جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ جاگرن کی ایک تقریب کے دوران پیش آیا، جس کے بعد مشتعل ہجوم نے بچے کے گھر اور قریبی مسجد پر پتھراؤ بھی کیا۔ اس اچانک حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور اقلیتی آبادی میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق تقریب کے دوران موجود چند افراد نے بارہ سالہ عبداللہ سے سگریٹ لا کر دینے کا مطالبہ کیا۔ بچے کے انکار کرنے پر اسے تھپڑ مارے گئے اور اس کے سر پر لوہے کے وزنی کڑے سے وار کیا گیا جس سے وہ زخمی ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے بچے پر مخصوص مذہبی نعرہ لگانے کے لیے بھی دباؤ ڈالا۔ خوفزدہ بچہ جان بچا کر اپنے گھر کی طرف بھاگا، تاہم تقریباً 200 سے 250 افراد پر مشتمل ہجوم اس کا تعاقب کرتے ہوئے اس کے گھر تک پہنچ گیا اور مبینہ طور پر رہائشی مکان اور متصل مسجد پر شدید پتھراؤ شروع کر دیا۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اہل خانہ نے خود کو گھر کے اندر بند کر کے تحفظ کی کوشش کی۔

اسی افراتفری کے دوران بچے کے تینتیس سالہ چچا محمد سفیان جب اپنے گھر واپس آ رہے تھے تو مشتعل ہجوم نے انہیں بھی گھیر کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس بہیمانہ حملے میں سفیان کے سر پر گہرے زخم آئے جن کے علاج کے لیے اسپتال میں انہیں آٹھ ٹانکے لگانے پڑے۔ بچے کے والد محمد عرفان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اس پورے علاقے میں ان کا واحد مسلم گھرانہ ہے اور وہ برسوں سے مقامی لوگوں کے ساتھ پرامن اور خوشگوار ماحول میں زندگی بسر کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرتشدد کارروائی میں ملوث بیشتر افراد بیرونی تھے اور وہ گزشتہ کچھ عرصے سے اس نوعیت کی ہراسانی کا سامنا کر رہے تھے جس کی بنیاد مقامی مسجد کے مقام کو متنازع بنانے کے جھوٹے دعوے تھے۔

مقامی پولیس نے اس سنگین معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے چھ نامزد ملزمان آشیش، وکاس، انشو، موہت، آنند اور امانگ سمیت تقریباً 200 نامعلوم افراد کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں لاء اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کے لیے حفاظتی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں اور واقعے کی تمام تر تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں، البتہ خبر لکھے جانے تک اس معاملے میں کسی باضابطہ گرفتاری کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

شہری اور سماجی حلقوں نے کمسن بچے پر بہیمانہ تشدد اور تنہا مسلم خاندان کے گھر پر ہجوم کے حملے کو امن و امان کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے اتر پردیش پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ اقلیتی شہریوں کے تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے اور اس کھلی غنڈہ گردی میں ملوث تمام شرپسند عناصر کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

شیئر کریں۔