جعلی ادویات کے کاروبار پر قتل کے مقدمات درج ہونے چاہئیں: کرناٹک کے وزیر صحت یو ٹی قادر کا سخت مؤقف

کرناٹک کے وزیر برائے صحت اور خاندانی بہبود یو ٹی قادر نے جعلی ادویات تیار کرنے اور فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ترین فوجداری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس قسم کے جرائم کو اقدامِ قتل یا قتل کے زمرے میں شامل کیا جانا چاہیے۔ منگلورو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جعلی ادویات سے متعلق موجودہ قوانین اور سزائیں انتہائی نرم ہیں، جن کے تحت محض لائسنس منسوخ کرنے یا جرمانہ عائد کرنے سے مجرم کچھ عرصے بعد دوسرے نام سے دوبارہ یہ غیر قانونی دھندا شروع کر دیتے ہیں۔

وزیر صحت نے کہا کہ وہ مرکزی حکومت سے رجوع کر کے ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ میں ضروری ترامیم کا مطالبہ کریں گے تاکہ انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کو سخت ترین سزاؤں کے دائرے میں لایا جا سکے۔ انہوں نے محکمہ صحت کے اس فوری فیصلے سے بھی آگاہ کیا جس کے تحت اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز سے مشتبہ بیجز کی تمام ادویات کو فوری طور پر واپس منگوانے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ محکمہ کے آن لائن پورٹل پر اس نیٹ ورک سے وابستہ رسائی کو مکمل طور پر بلاک کر دیا گیا ہے تاکہ ریاست بھر میں ان دواؤں کی بلنگ اور فروخت کا فوری سدباب ممکن ہو سکے۔

طبی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیریو ٹی قادر نے بتایا کہ ریاستی حکومت ایک جدید ترین ہائی اینڈ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری قائم کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ اس نظام کے تحت ڈرگ کنٹرول افسران دوا ساز کمپنیوں، اسپتالوں اور فارمیسیوں سے اچانک سیمپلز حاصل کر کے باقاعدہ جانچ کریں گے۔ ریاست میں بین الریاستی سطح پر پھیلے اس مکروہ جال کی سنگینی کے پیش نظر حکومت کیس کو سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے سپرد کرنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے مرکزی وزیر صحت کو مکتوب لکھ کر سنٹرل ڈرگز سرویلنس افسران کی تعیناتی کی درخواست کی ہے۔

یہ کارروائی بنگلورو ساؤتھ (سابقہ رام نگر) کے بیددی علاقے کے قریب 5 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جعلی ادویات پکڑے جانے کے بعد عمل میں آئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جان بچانے والی اینٹی بائیوٹکس سمیت متعدد ادویات ریاست سے باہر تیار کی جا رہی تھیں اور پھر کرناٹک کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میں سپلائی کی جاتی تھیں۔ اس انکشاف سے واضح ہوا ہے کہ یہ نیٹ ورک کسی ایک ضلع تک محدود نہیں بلکہ متعدد ریاستوں میں جڑیں رکھتا ہے۔

اس معاملے کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے کارروائیاں تیز کرتے ہوئے کئی ملزمان کو حراست میں لیا ہے۔ حالیہ پیش رفت میں بنگلورو کے منروا سرکل پر چھاپہ مار کر کرپا ہیلتھ کیئر کے مالک ویرش کمار جین کو گرفتار کیا گیا ہے، جسے اس ریکٹ کا مرکزی کردار تصور کیا جا رہا ہے۔ اس نیٹ ورک کا ایک اور اہم مشتبہ ملزم آر پرشانت اس وقت آذربائیجان فرار ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر اسپتالوں کو جعلی سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والی تشویش پر وزیر صحت نے عوام کو یقین دلایا کہ مشتبہ کھیپ مارکیٹ سے ہٹا دی گئی ہے اور مکمل تحقیقات مکمل ہونے تک سخت نگرانی جاری رہے گی۔

شیئر کریں۔