عمر خالدپر ڈاکیومنٹری کی نمائش پر تنازعہ ، عمر خالد کو ملک دشمن کس نے قرار دیا؟وزیر پریانک کھرگے کا اے بی وی پی سے تیکھا سوال

بنگلورو کے معروف ادارے نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (این ایل ایس آئی یو) میں جیل میں بند سماجی کارکن عمر خالد پر بنی ایک دستاویزی فلم کی نمائش کے معاملے پر سیاسی اور نظریاتی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ کرناٹک کے کابینہ وزیر پریانک کھرگے نے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی جانب سے فلم کی نمائش مستقل طور پر منسوخ کرنے کے مطالبے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ عمر خالد کو ملک دشمن کس بنیاد پر کہا جا رہا ہے۔ کھرگے نے واضح کیا کہ عمر خالد کا مقدمہ تاحال عدالت میں زیر سماعت ہے اور کسی بھی مجاز عدالت نے انہیں ملک دشمن قرار نہیں دیا، لہٰذا قانونی حقائق کے برعکس کسی پر یکطرفہ لیبل لگانا اور تعلیمی اداروں کو دھمکانا قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔

یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا جب یونیورسٹی کی ’لا اینڈ سوسائٹی کمیٹی‘ نے فلم ساز للت واچانی کی تیار کردہ دستاویزی فلم ’پرزنر نمبر 626710 از پریزنٹ‘ کی نمائش کا شیڈول طے کیا۔ نمائش 14 ستمبر کو ہونا تھی، تاہم منتظمین نے سیکورٹی انتظامات اور لاجسٹک وجوہات کی بنا پر پروگرام کو وقتی طور پر مؤخر کر دیا۔ اگرچہ منتظمین نے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کے تحت نہیں کیا گیا اور فلم کو موجودہ سہ ماہی کے دوران بعد میں دکھایا جائے گا، لیکن دائیں بازو کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی نے اس کی مستقل منسوخی کا مطالبہ برقرار رکھا ہے۔ تنظیم نے اس سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی اور مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال کو خطوط ارسال کر کے اس نمائش کی اجازت دیے جانے کے خلاف مرکزی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

اس معاملے پر ریاست کی حکمران جماعت کانگریس کے سینئر رہنما بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر بی کے ہری پرساد نے بھی عمر خالد کا دفاع کرتے ہوئے انہیں محب وطن شہری قرار دیا اور اے بی وی پی کی مخالفت پر شدید نکتہ چینی کی۔ ہری پرساد کے اس بیان کے بعد بی جے پی اور اے بی وی پی کے حلقوں میں شدید بے چینی دیکھی جا رہی ہے اور انہوں نے کانگریس پر ملک مخالف عناصر کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم عوامی حقوق کے علمبرداروں کا ماننا ہے کہ کسی بھی زیر سماعت قیدی کے انسانی حقوق اور اس سے جڑے عدالتی مقدمات پر سنجیدہ اکیڈمک بحث کو روکنا جمہوریت اور آزادی اظہار رائے کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے۔

یاد رہے کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق ریسرچ اسکالر عمر خالد کو سال 2020 میں شمال مشرقی دہلی کے فسادات کی مبینہ سازش کے الزام میں سخت گیر قانون غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ دہلی پولیس نے ان پر بڑے پیمانے پر تشدد کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا تھا، جب کہ عمر خالد، ان کے وکلا اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے پرامن سیاسی احتجاج کو دبانے اور مسلم اقلیت کی آواز کو نشانہ بنانے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔ عمر خالد بغیر کسی عدالتی فیصلے کے کئی سالوں سے مسلسل قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں اور ان کی ضمانت کی درخواستیں متعدد بار تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں۔

نیشنل لا اسکول میں دستاویزی فلم کی اسکریننگ پر کھڑا ہونے والا یہ تنازع اب محض ایک دستاویزی فلم تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے ملک میں اکیڈمک آزادی، یونیورسٹی کی خودمختاری، جمہوری مباحثوں اور عدالتی دائرہ کار جیسے اہم موضوعات کو دوبارہ بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک قانونی طور پر الزامات ثابت نہ ہوں، تب تک کسی شہری کو نشانہ بنانا قانون کی بالادستی پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔ فی الحال فلم کی نمائش مؤخر ہے اور انتظامیہ کی جانب سے نئی تاریخ کے باقاعدہ اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں۔