6 سال سے قید عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت کی دہلی پولس نے پھر کی مخالفت، عدالت کو گمراہ کرنے کا الزام

دہلی پولیس نے دہلی ہائی کورٹ میں پیش ہو کر سال 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات کی مبینہ سازش کے مقدمے میں سرگرم کارکنان عمر خالد اور شرجیل امام کی تازہ ترین درخواستِ ضمانت کی شدید مخالفت کی ہے۔ پولیس نے عدالت کے روبرو دعویٰ کیا ہے کہ دونوں کارکنان کی جانب سے دائر کردہ ضمانت کی عرضیاں غیر قانونی ہیں اور یہ عدالت کو گمراہ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ قانونی پورٹلز لائیو لاء اور بار اینڈ بینچ کی رپورٹس کے مطابق پولیس نے ایک بار پھر اپنے پرانے الزامات کو دہراتے ہوئے دونوں سابق جے این یو طلباء کو مبینہ سازش کا کلیدی کردار قرار دیا ہے۔

عمر خالد، شرجیل امام اور کئی دیگر نوجوان کارکنان کو سن 2020 کے اوائل اور اواخر میں متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہونے والے احتجاجات اور اس کے بعد بھڑکنے والے فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ شمال مشرقی دہلی میں پیش آنے والے ان افسوسناک واقعات میں ترپن افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی جبکہ سینکڑوں افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔ دہلی پولیس نے ان ملزمان کے خلاف دہشت گردی کی روک تھام سے متعلق سخت ترین قانون یو اے پی اے، آرمز ایکٹ، پبلک پراپرٹی کے تحفظ کے قوانین اور تعزیراتِ ہند کے تحت سنگین دفعات عائد کی تھیں۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ فسادات حکومت کے خلاف ایک بڑی سازش کا حصہ تھے جسے احتجاج کی آڑ میں منظم کیا گیا تھا، تاہم گرفتاری کو برسوں گزر جانے کے باوجود دونوں کارکنان کے خلاف باقاعدہ ٹرائل تاحال شروع نہیں ہو سکا ہے۔ یہ تیسرا موقع ہے جب ملزمان نے ہائی کورٹ میں ضمانت کے لیے رجوع کیا ہے، اس سے قبل ان کی درخواستیں نچلی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک مسترد ہو چکی ہیں۔ پولیس نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے مطابق ملزمان کے رسک پروفائلز ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لہٰذا دیگر ملزمان کو ملنے والی ریلیف کا اطلاق ان پر نہیں ہو سکتا۔

واضح رہے کہ رواں سال جنوری میں عدالتِ عظمیٰ کی ایک بینچ نے گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمن، شاداب احمد اور محمد سلیم خان سمیت متعدد ملزمان کو ضمانت دی تھی، تاہم عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں یہ شرط عائد کی گئی تھی کہ وہ گواہوں کے بیانات قلمبند ہونے کے بعد یا مخصوص مدت کے بعد ہی نئی درخواست دے سکتے ہیں۔ دہلی پولیس کا موقف ہے کہ ابھی تک وہ شرائط پوری نہیں ہوئی ہیں، جبکہ دفاعی وکلاء نے سپریم کورٹ کے حالیہ قانونی اصولوں کو بنیاد بناتے ہوئے طویل غیر معینہ قید کو بنیادی آئینی حقوق کے خلاف قرار دیا ہے۔

عدالتی ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقے اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت برسوں تک بغیر ٹرائل کے قید میں رکھنا شہری آزادیوں اور انصاف کے تقاضوں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ میں اب اس معاملے پر مزید سماعت متوقع ہے جہاں عدالت دونوں فریقین کے دلائل کی روشنی میں ضمانت کی قانونی حیثیت کا حتمی جائزہ لے گی۔

شیئر کریں۔