جنتر منتر احتجاج میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ، اس لئے دہلی پولس کی ہونی چاہئے تعریف ، مرکزی وزیر کرن رجیجو کی عجیب وغریب منطق،راہل گاندھی نے دکھایا ائینہ

نئی دہلی کے معروف احتجاجی مقام جنتر منتر پر 20 جولائی کو ہونے والے مظاہروں کے دوران سیکیورٹی فورسز کی مبینہ پرتشدد کارروائی پر مرکزی وزیر کرن رجیجو کے حالیہ بیان نے ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مرکزی وزیر نے پولیس کے اقدامات کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اس لیے تنقید کرنے کے بجائے دہلی پولیس کے نظم و ضبط کی تعریف کی جانی چاہیے۔

مرکزی وزیر نے اپنے موقف میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ مظاہرین کے خلاف نہ تو کوئی فائرنگ ہوئی اور نہ ہی لاٹھی چارج کا سہارا لیا گیا، بلکہ جب مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ شروع کیا تو فورسز نے صرف انہیں آگے بڑھنے سے روکا۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی شخص سنگین طور پر زخمی ہو کر ہسپتال میں داخل نہیں ہوا۔ دوسری جانب دستیاب سرکاری دستاویزات، آر ٹی آئی کے تحت حاصل کردہ معلومات اور اعلیٰ ترین عدالت میں جمع کرائے گئے حلف ناموں میں دو سو کے قریب افراد کے زخمی ہونے اور پیلٹ گن کے استعمال کی تصدیق کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں کئی نوجوانوں کے فریکچر اور شدید چوٹیں آئی تھیں۔

اس بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے حکومت کے رویے کو کھلی چشم پوشی قرار دیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارلیمنٹ کے قریب جمہوری اور پرامن طریقے سے آواز بلند کرنے والے نوجوانوں پر سخت طاقت کا استعمال کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی طلبا کو مستقل بینائی کے نقصان اور دیگر سنگین زخموں کا سامنا کرنا پڑا۔ راہل گاندھی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی تشدد کے بعد زمینی حقائق کا انکار کرنا اور عوامی مطالبات پر پردہ ڈالنا افسوسناک ہے۔

جمہوری نظام میں پرامن احتجاج، اختلاف رائے کے تحفظ اور عوامی تحریکوں کے ساتھ ریاستی سلوک کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے اداروں کا موقف ہے کہ شہریوں کے جمہوری حقوق کے استعمال کے دوران سیکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کے تناسب کو برقرار رکھنا بنیادی آئینی تقاضا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اس تکرار کے بعد ملک بھر میں طلبا تنظیموں اور عوامی حلقوں کی جانب سے پولیس کے احتساب اور احتجاج کے بنیادی حق پر قانونی بحث مزید گہری ہونے کے امکانات ہیں۔

شیئر کریں۔