مرکزی حکومت کی جانب سے پی ایم کیئرز فنڈ کی تازہ آڈٹ رپورٹ جاری ہونے کے بعد ملک میں ایک نیا سیاسی اور سماجی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 31 مارچ 2025 تک اس فنڈ میں 8452 کروڑ روپے کا خطیر بیلنس موجود ہے لیکن مالی سال 2024-25 کے دوران اس رقم کا محض 0.01 فیصد حصہ ہی عوام پر خرچ کیا گیا۔ اس انکشاف کے بعد اپوزیشن جماعتوں، سماجی کارکنوں اور شفافیت کے حامیوں نے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے فنڈ کے مصرف اور اس کی رازداری پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
آڈٹ دستاویزات بتاتی ہیں کہ کل بیلنس میں سے 7846 کروڑ روپے فکسڈ ڈپازٹس میں رکھے گئے ہیں جبکہ 605 کروڑ روپے سیونگ اکاؤنٹس میں موجود ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ گزشتہ مالی سال میں ‘پی ایم کیئرز فار چلڈرن’ اسکیم پر صرف 87.8 لاکھ روپے خرچ کیے گئے، جو اس سے پچھلے سال کے 15.37 کروڑ روپے کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ عطیات کے رجحان میں بھی نمایاں گراوٹ دیکھی گئی ہے جہاں ملکی عطیات 30 فیصد کمی کے ساتھ 479 کروڑ روپے اور غیر ملکی امداد 18 فیصد کمی کے بعد 92.8 لاکھ روپے تک محدود ہو گئی ہے۔
کانگریس کے سینیئر رہنما پون کھیڑا نے اتنی بڑی رقم کے غیر استعمال شدہ رہنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام مصائب کا شکار ہیں اور اربوں روپے بینکوں میں قید ہیں۔ کیرالہ کانگریس نے چینی ٹیک کمپنیوں جیسے ٹک ٹاک اور ہواوے کی جانب سے دیے گئے مبینہ عطیات پر بھی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ سماجی کارکن انجلی بھاردواج نے آڈٹ رپورٹ میں اہم تفصیلات کی عدم موجودگی، نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے 324 کروڑ روپے کی واپسی اور فنڈ کے ذرائع کو خفیہ رکھنے پر کڑی تنقید کی۔
دوسری جانب اس خطیر رقم کو ملکی مفاد میں استعمال کرنے کے عملی مطالبات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے ‘اسکول ٹھیک کرو’ مہم کے تحت تجویز دی ہے کہ پی ایم کیئرز فنڈ کو دیہی اسکولوں کا بنیادی ڈھانچہ بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک طرف اربوں روپے استعمال نہیں ہو رہے اور دوسری طرف دیہی علاقوں کے بچے پینے کے پانی، بینچوں اور اسکول تک رسائی کے لیے سڑکوں جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
ان کا موقف ہے کہ اگر ایک ماڈل اسکول کی تعمیر پر آٹھ کروڑ روپے لاگت آتی ہے تو اس فنڈ سے ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد جدید ترین ہائی ٹیک اسکول باآسانی تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔ مہاراشٹر کے دیہی علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ فنڈز کی کمی کا جواز پیش کرنے والی انتظامیہ کو یہ رقم غریب بچوں کی تعلیم پر خرچ کرنی چاہیے۔ حکومت کا دفاع یہ ہے کہ پی ایم کیئرز فنڈ کو صرف ہنگامی حالات اور قدرتی آفات کے لیے مختص رکھا گیا ہے، تاہم رائٹ ٹو انفارمیشن اور پارلیمانی نگرانی سے مستثنیٰ اس فنڈ کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات عوامی سطح پر بے چینی پیدا کر رہے ہیں۔




