کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مرکزی حکومت پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر آزادیِ اظہار اور اختلافِ رائے کے جمہوری حق پر کاری ضرب لگانے کا سنگین الزام عائد کیا ہے। دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق کانگریس صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مارچ سے جولائی کے درمیانی پانچ ماہ کے عرصے میں حکومت کی جانب سے مختلف سوشل میڈیا کمپنیوں کو تقریباً 1.95 لاکھ مواد بلاک کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ اوسطاً ہر 68 سیکنڈ بعد ایک بلاکنگ آرڈر کے مساوی ہے۔
کانگریس سربراہ کے مطابق ان حکومتی احکامات کا سب سے بڑا نشانہ وہ طلبا اور نوجوان بنے جو امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے سراپا احتجاج تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک طرف سڑکوں پر پرامن مطالبات کرنے والے نوجوانوں کو پولیس کارروائی اور لاٹھی چارج کا سامنا کرنا پڑا، تو دوسری طرف سوشل میڈیا پر ان کی تائید میں شائع ہونے والی ویڈیوز، تصاویر اور ریلز کو باضابطہ مہم کے تحت ہٹایا گیا۔ کھڑگے کا کہنا تھا کہ سنسرشپ کے نظام کو اس حد تک خودکار بنا دیا گیا ہے اور مواد ہٹانے کا وقت گھٹا کر محض تین گھنٹے کر دیا گیا ہے کہ اکثر معاملات میں انسانی سطح پر جائزے کے بغیر ہی تنقیدی آوازوں کو خاموش کر دیا جاتا ہے۔
مزید برآں کانگریس صدر نے حکومت کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرنے والے صحافیوں، آزاد مواد تخلیق کاروں اور عام شہریوں پر دباؤ اور قانونی کارروائی کی دھمکیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دوسری جانب خواتین کو آن لائن نشانہ بنانے اور ہراساں کرنے والے مخصوص حکومت نواز اکاؤنٹس کے خلاف کوئی ٹھوس قانونی قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ انہوں نے اس صورتحال کو جمہوری اقدار اور شہریوں کے آئینی حقوق کے لیے انتہائی تشویش ناک قرار دیا۔
ڈیجیٹل اسپیس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ریگولیشن کا معاملہ حالیہ برسوں میں ملکی سطح پر مسلسل بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں اور ڈیجیٹل حقوق کی تنظیمیں حکومتی سنسرشپ اور شفافیت کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں، جبکہ حکومتی حلقوں کا موقف عمومی طور پر یہ رہا ہے کہ قواعد و ضوابط کا مقصد گمراہ کن معلومات اور امن و امان کے مسائل کی روک تھام ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے پیش کردہ ان تازہ اعداد و شمار اور الزامات کے بعد ملک میں ڈیجیٹل آزادی اور اختلافِ رائے کے حقوق پر سیاسی اور عوامی بحث مزید تیز ہونے کے امکانات ہیں۔




