کولکاتا کے ہوٹل میں آتشزدگی: علاج کے لیے آئے 9 بنگلہ دیشیوں کی موت

مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکاتا کے معروف علاقے مرزا غالب اسٹریٹ پر واقع ایک نجی ہوٹل میں بدھ کی علی الصبح خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد جاں بحق اور 6 دیگر شدید جھلس گئے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق حادثہ رات تقریباً 2 سے 3 بجے کے درمیان پیش آیا جب ہوٹل میں مقیم بیشتر مہمان گہری نیند میں تھے۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا جس کے باعث جائے وقوع پر ہی بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق اس اندوہناک سانحے میں لقمہ اجل بننے والے تمام نو افراد کا تعلق پڑوسی ملک بنگلہ دیش سے تھا۔ یہ تمام افراد مختلف بیماریوں کے علاج کی غرض سے کولکاتا آئے ہوئے تھے اور عارضی قیام کے لیے اس ہوٹل میں ٹھہرے تھے۔ آتشزدگی کے وقت گہرے دھوئیں اور شعلوں کے باعث عمارت میں شدید چیخ و پکار مچ گئی اور حواس باختہ ہو کر لوگ اپنی جان بچانے کے لیے باہر بھاگنے لگے، تاہم راستوں کی تنگی اور حد سے زیادہ دھوئیں نے ہلاکتوں میں اضافہ کر دیا۔

فائر بریگیڈ اور پولیس کے عملے نے بروقت اطلاع ملنے پر جائے وقوع پر پہنچ کر طویل اور کٹھن ریسکیو آپریشن کے بعد آگ پر قابو پایا۔ فائر ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام کی ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہوٹل میں حفاظتی ضوابط اور فائر سیفٹی کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی تھیں۔ عمارت میں آگ بجھانے کے مناسب آلات موجود نہیں تھے، جبکہ اندرونی راہداریاں انتہائی تنگ تھیں جس سے اخراج کا راستہ بند ہو گیا۔ مزید سنگین بات یہ سامنے آئی کہ رات کے وقت ہوٹل کا مرکزی دروازہ بند تھا جس کی وجہ سے دم گھٹنے اور شعلوں میں گھرنے والے افراد بروقت باہر نہ نکل سکے۔

پولیس اور فرانزک ماہرین نے جائے حادثہ سے شواہد اکٹھا کر کے آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرنا شروع کر دیا ہے۔ انتظامیہ اس امر کی بھی سخت جانچ کر رہی ہے کہ آیا ہوٹل کے پاس فائر بریگیڈ کا باقاعدہ این او سی موجود تھا یا نہیں۔ مجرمانہ غفلت اور غیر قانونی انتظامات کے الزام میں ہوٹل انتظامیہ اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ جھلسنے والے تمام افراد کو قریبی ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

شیئر کریں۔