دہلی کے سابق وزیر اور عام آدمی پارٹی کے سینیئر رہنما ستیندر کمار جین کو دہلی جل بورڈ کے مبینہ ٹینڈر معاملے میں اینٹی کرپشن برانچ (اے سی بی) نے باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا ہے۔ اس کارروائی میں ستیندر جین کے ہمراہ دہلی جل بورڈ کے سابق سی ای او اور سینیئر آئی اے ایس افسر ادت پرکاش رائے سمیت کل چھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
تفتیشی ایجنسی کے مطابق یہ معاملہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) کی اپ گریڈیشن اور صلاحیت میں اضافے سے متعلق جاری کردہ ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیوں پر مبنی ہے۔ اے سی بی کا الزام ہے کہ ٹینڈر کی تکنیکی شرائط میں مخصوص تبدیلیاں کی گئیں تاکہ ایک خاص نجی کمپنی ’یوروٹیک انوائرنمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو ناجائز فائدہ پہنچایا جا سکے۔ اس کیس میں سابق کنٹریکچوئل کنسلٹنٹ انکت سریواستو، اے این انٹرپرائزز کے ناگیندر یادو، کمپنی کے مالک راجا کمار کُرا اور شری جَہنار کے پنکج ورما کی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔
ایجنسی کی جانب سے درج ایف آئی آر میں انسدادِ بدعنوانی، دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش کی دفعات شامل ہیں۔ الزامات کے تحت پائلٹ اسٹڈی کے بغیر ہی شرائط طے کی گئیں جس سے شفاف مقابلے کا عمل متاثر ہوا اور سرکاری خزانے کو مالی نقصان پہنچا۔ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے ای میلز اور پیغامات کے تجزیے کی بنیاد پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرکاری ٹینڈر کی دستاویزات پہلے سے نجی اور سرکاری افراد کے مابین شیئر کی جا رہی تھیں۔ اس کے علاوہ سابق سی ای او اور ان کے رشتہ داروں کے کھاتوں میں تقریباً 1.52 کروڑ روپے کی مشتبہ منتقلی کا الزام بھی لگایا گیا ہے جس کی منی ٹریل کی جانچ جاری ہے۔
دوسری جانب عام آدمی پارٹی نے اس گرفتاری کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سیاسی کارروائی قرار دیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان انوراگ ڈھانڈا نے موقف اختیار کیا کہ جس وقت کے ٹینڈر کا حوالہ دیا جا رہا ہے اس دوران ستیندر جین جیل میں تھے، لہٰذا ان پر یہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ستیندر جین چونکہ پنجاب کے تنظیمی امور دیکھ رہے ہیں اس لیے انہیں سیاسی مخالفت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف قانونی عمل اور عدالت میں پیشی کے حوالے سے مزید پیش رفت کا انتظار ہے۔




