منگلورو (فکروخبر نیوز) میلیناموگیرو، منگلورو میں واقع اقراء گرلز عربک اسکول میں بروز ہفتہ 8 اگست کو منعقدہ تقریب میں میں معروف مصنف ڈاکٹر عبدالحمید اطہر ندوی کی تصنیف ’’اے ہول اِن دی بوٹ‘‘ (A Hole in the Boat) کی رسمِ اجرا انجام دی گئی۔ کتاب کو اقراء اکیڈمی آف ریسرچ اینڈ پبلیکیشنز (IARP) نے شائع کیا ہے۔ تقریب میں علمائے کرام، اساتذہ، والدین، طالبات اور علمی و دینی حلقوں سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کلیدی مقرر نے کتابوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کتاب محض کاغذ، سیاہی، رنگ اور خوب صورت ڈیزائن کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ انسان کی روح اور فکر کی پرورش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفید اور معیاری کتابیں انسان کی سوچ کو جلا بخشنے، اس کے کردار کی تعمیر اور معاشرے کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ اچھی کتاب کا اثر قاری کی شخصیت پر دیرپا رہتا ہے۔
تقریب کی مقررہ و مترجمہ زینب نے اقراء عربک اسکول میں اپنے 14 سالہ تعلیمی سفر کے تجربات بیان کرتے ہوئے اسے علم، کردار سازی اور روحانی تربیت کا اہم دور قرار دیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنے والدین اور اساتذہ کا خصوصی تذکرہ کیا، جنہوں نے ان کے اندر مطالعے اور حصولِ علم کا ذوق پیدا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد نے ابتدائی عمر ہی میں انہیں مطالعے کی عادت ڈالنے کی کوشش کی اور اسلامی اخلاق، تاریخ، سیرت اور کردار سازی سے متعلق کتب سے متعارف کرایا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علم اسی وقت حقیقی معنوں میں نافع بنتا ہے جب اسے صالح اساتذہ اور اہلِ علم کی رہنمائی میں حاصل کیا جائے۔
زینب نے مستند اسلامی ادب کو انگریزی، کنڑا، ملیالم، تمل اور ہندی سمیت مختلف زبانوں میں منتقل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ زبان کی رکاوٹ کے باعث بہت سا قیمتی علمی سرمایہ عام قارئین تک نہیں پہنچ پاتا، جبکہ ترجمہ ایک زبان کے مفید علم کو دوسری زبان کے قارئین تک پہنچانے اور ایک دل سے دوسرے دل تک منتقل کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے طالبات کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں مصنفہ، مترجمہ، محققہ، ناشر اور اسلامی علم کی سفیر بننے کا ہدف سامنے رکھیں۔
انہوں نے نوجوان نسل کو موبائل فون اور سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال سے بچنے اور مطالعے کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کی تلقین کرتے ہوئے کم از کم 20 منٹ روزانہ بامقصد اور مفید مطالعے کے لیے مختص کرنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ کتاب سے مضبوط تعلق انسان کی فکری پختگی اور شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
اس موقع پر اقراء کے پرنسپل مولانا سالم ندوی، نائب پرنسپل مولانا داؤد ندوی، شعبۂ عربی کے سربراہ مولانا عبدالرافع ندوی، محمد فرحان ندوی اور عبدالحمید خلیفہ سمیت دیگر ذمہ داران موجود تھے۔




