نئی دہلی: دارالحکومت نئی دہلی میں مرکزی حکومت کی E20 اتھانول بلینڈڈ پیٹرول پالیسی کے خلاف ‘ٹیم بھارت’ کے تحت نکالے جانے والے مجوزہ ‘گاڑی مارچ’ سے ایک روز قبل، جمعرات 30 جولائی کو معروف سیاسی تجزیہ نگار اور سماجی کارکن تحسین پونا والا کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ تحسین پونا والا نے الزام عائد کیا ہے کہ مرکزی حکومت اور دہلی پولیس ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
تحسین پونا والا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پولیس اہلکار انہیں پارلیمنٹ اور وجے چوک کی جانب جانے سے روک رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا ہے۔ ویڈیو پیغام میں انہوں نے مرکزی وزیر نتن گڈکری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "میں نتن گڈکری سے نہیں ڈرتا۔ آپ جو چاہیں کر لیں، مجھے جیل میں ڈال دیں، لیکن میں خاموش نہیں رہوں گا کیونکہ یہ پالیسی غلط ہے۔” انہوں نے الزام لگایا کہ اتھانول تیار کرنے والے کارخانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے یہ پالیسی نافذ کی جا رہی ہے۔
تحسین پونا والا نے وزیراعظم نریندر مودی سے بھی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے حقائق پر مبنی اختلافِ رائے کو دبایا جارہا ہے۔
یاد رہے کہ ‘ٹیم بھارت’ نے 31 جولائی کو انڈیا گیٹ سے پارلیمنٹ اسٹریٹ تک ایک بڑے ‘گاڑی مارچ’ کا اعلان کیا تھا، جو مرکزی وزراء نتن گڈکری اور ہردیپ سنگھ پوری کی رہائش گاہوں کے سامنے سے گزرنے والا تھا۔ اس احتجاج کا مقصد E20 اتھانول بلینڈڈ پیٹرول پالیسی پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کرنا ہے۔ اس سے ایک روز قبل حکومت نے راجیہ سبھا میں اعتراف کیا تھا کہ ملک میں E20 پیٹرول سے مطابقت رکھنے والی گاڑیوں کی تعداد کا کوئی باضابطہ تخمینہ موجود نہیں، جبکہ گاڑی مالکان مسلسل انجن کو ممکنہ نقصان اور ایندھن کے معیار پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔




