کرناٹک کے ضلع رائچور سے ایک انتہائی دردناک اور جگر سوز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں آوارہ کتوں کے ایک غول نے گھر کے باہر کھیلتی ہوئی ۱۸ ماہ کی معصوم بچی پر وحشیانہ حملہ کر کے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس دل دہلا دینے والے سانحے کے بعد پورے علاقے میں کہرام مچ گیا ہے اور مقامی باشندوں میں بلدیاتی انتظامیہ کی غفلت کے خلاف شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لوگوں نے سڑکوں پر اتر کر مقامی حکام کے خلاف سخت احتجاج کیا اور آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، یہ انتہائی افسوسناک واقعہ سندھنور تعلقہ کے کے ہنچینالا کیمپ میں بدھ کی صبح پیش آیا۔ متوفیہ بچی کی شناخت انم کے طور پر کی گئی ہے، جو رزاق نامی شخص کی بیٹی تھی۔ متاثرہ خاندان کا تعلق بنیادی طور پر وجئے نگر ضلع کے ہوسپیٹ علاقے سے بتایا جاتا ہے جو یہاں مقیم تھا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ معصوم انم صبح سویرے نیند سے بیدار ہونے کے بعد ہنستے کھیلتے ہوئے گھر کے صحن سے باہر نکلی ہی تھی کہ وہاں پہلے سے گھات لگائے بیٹھے چھ سے سات خونخوار آوارہ کتوں نے اس پر اچانک ہلاکت خیز حملہ کر دیا۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ کتوں کا یہ غول معصوم بچی کو گھسیٹتے ہوئے کھلے میدان کی طرف لے گیا اور اس کے نازک جسم کو بے رحمی سے نوچنا شروع کر دیا۔ جب تک اہل خانہ نے بچی کی چیخ و پکار سنی اور پڑوسی لاٹھیاں لے کر موقع پر جمع ہوئے، تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ وحشی کتوں نے بچی کے چہرے، ہاتھوں، ٹانگوں اور پیٹ پر اتنے گہرے اور ہولناک زخم لگائے تھے کہ معصوم نے جائے وقوعہ پر ہی تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا۔ ہسپتال لے جانے پر ڈاکٹروں نے بھی اس کی موت کی تصدیق کر دی۔
اس معصوم کی ہلاکت کے بعد پورے گاؤں کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے بلدیاتی اور پنچایت انتظامیہ کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ احتجاج کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے علاقے میں آوارہ کتوں کی بھرمار ہو چکی ہے جس کی وجہ سے خواتین، بوڑھوں اور خصوصاً بچوں کا گھروں سے اکیلے نکلنا محال ہو گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ اس سے پہلے بھی آوارہ کتوں کے کاٹنے اور راہگیروں پر حملے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں اور اس تعلق سے انتظامیہ کو کئی بار تحریری شکایتیں دی گئیں، لیکن حکام نے ان شکایات کو ہمیشہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جس کا نتیجہ آج ایک معصوم بچی کی ہلاکت کی شکل میں سامنے آیا ہے۔
مقامی پولیس نے اس افسوسناک واقعے کا مقدمہ درج کر کے باقاعدہ تفتیش اور قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ عوامی دباؤ اور شدید احتجاج کے پیش نظر مقامی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ علاقے میں آوارہ کتوں کو پکڑنے اور ان کی نس بندی کے لیے فوری طور پر ایک خصوصی مہم شروع کی جائے گی۔ تاہم، غم زدہ والدین کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کے یہ کاغذی وعدے اب ان کی لختِ جگر کو واپس نہیں لا سکتے۔ انہوں نے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔




