مسلم پرسنل لا کی اہمیت و افادیت اور موجودہ حالات میں ہماری ذمہ داری

از: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ: تحفظِ شریعت کی نصف صدی پر محیط درخشاں جدوجہد

از: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی

اسلام محض چند عبادات یا مذہبی رسوم کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا کامل، جامع اور ابدی نظامِ حیات ہے جو انسانی زندگی کے ہر انفرادی، اجتماعی، معاشرتی، معاشی، خاندانی، عدالتی اور اخلاقی شعبے کے لیے خدائی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ نکاح و طلاق، وراثت، وصیت، خاندان، معاملات اور معاشرت سے متعلق جو احکام قرآن و سنت نے عطا کیے ہیں، وہی اسلامی اصطلاح میں مسلم پرسنل لا یا اسلامی عائلی قانون کہلاتے ہیں۔ یہی قوانین مسلمان کے دینی تشخص، خاندانی استحکام، مذہبی آزادی اور تہذیبی انفرادیت کے ضامن ہیں۔

ہندوستان جیسے کثیر مذہبی، کثیر ثقافتی اور تکثیری معاشرے میں مسلم پرسنل لا کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ دستورِ ہند نے ہر مذہبی جماعت کو اپنے مذہبی عقائد اور عائلی قوانین کے مطابق زندگی گزارنے کا بنیادی حق عطا کیا ہے۔ اس لیے مسلم پرسنل لا کا تحفظ محض ایک قانونی مسئلہ نہیں، بلکہ مذہبی آزادی، آئینی حقوق، تہذیبی شناخت اور دستوری اقدار کے تحفظ کا عنوان بھی ہے۔

موجودہ حالات میں جبکہ مسلم پرسنل لا، وقف املاک، مذہبی آزادی اور یکساں سول کوڈ جیسے حساس موضوعات قومی سطح پر زیرِ بحث ہیں، ملتِ اسلامیہ کی ذمہ داری دوچند ہوجاتی ہے کہ وہ حکمت، بصیرت، اتحاد اور آئینی شعور کے ساتھ اپنے دینی و دستوری حقوق کے تحفظ کے لیے منظم جدوجہد کرے۔ ایسے نازک حالات میں ایک ایسے متحدہ اور نمائندہ پلیٹ فارم کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے جو ملت کی اجتماعی ترجمانی کرسکے اور اس کی جائز آئینی و مذہبی آواز کو مؤثر انداز میں پیش کرسکے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ: اتحادِ ملت کی روشن علامت

اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت سنہ 1973ء میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔ یہ ادارہ آج ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے بڑا، معتبر، نمائندہ اور مشترکہ پلیٹ فارم ہے، جس نے نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران ہر نازک مرحلے پر ملتِ اسلامیہ کی دینی، قانونی اور آئینی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا ہے۔

اس ادارے کا قیام اس حقیقت کا مظہر ہے کہ ہندوستانی مسلمان اپنے فقہی، مسلکی اور جماعتی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر شریعتِ اسلامی، مذہبی آزادی اور مشترکہ ملی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوسکتے ہیں۔ یہی اس ادارے کی سب سے بڑی قوت اور اس کی تاریخی کامیابی ہے۔

بصیرت، عزیمت اور استقامت کی درخشاں روایت

مفکرِ اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمہ اللہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:

«”مسلم پرسنل لا بورڈ کی تاریخ ایمان و یقین کے متوالوں کی تاریخ ہے، بصارت و بصیرت، جرأت و عزیمت کی تاریخ ہے، صبر و تحمل، حکمت و احتیاط اور سوز و دروں کے ساتھ جذبۂ عمل کی تاریخ ہے۔ وہ احتیاط جو بزدلی پیدا کرے، وہ پرہیز جو حالات سے فرار سکھائے، وہ صبر جو ظلم کے سامنے بے حسی بن جائے اور وہ برداشت جو بے عملی تک پہنچا دے، زندہ افراد اور زندہ اداروں کے لیے ہرگز قابلِ قبول نہیں۔”»

یہ چند جملے دراصل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی نصف صدی پر محیط جدو جہد کا جامع تعارف ہیں۔ اس ادارے نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے بجائے حکمت، تصادم کے بجائے آئینی جدو جہد، اور انتشار کے بجائے اتحادِ امت کو اپنی حکمتِ عملی بنایا ہے۔ یہی اس کی مقبولیت، استحکام اور اعتماد کا اصل راز ہے۔

قیام کے مقاصد اور امتیازی خصوصیات

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا مقصد صرف مسلم عائلی قوانین کا تحفظ نہیں، بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کے تمام فقہی مکاتبِ فکر اور دینی جماعتوں کے درمیان خیر سگالی، اخوت، تعاون اور باہمی اعتماد کو فروغ دینا بھی ہے، تاکہ ملت کے مشترکہ دینی، ملی اور آئینی مسائل میں ایک مضبوط، مؤثر اور متفقہ آواز سامنے آسکے۔

بورڈ نے اپنے قیام ہی کے وقت یہ اصول طے کردیا تھا کہ اتحادِ امت کا مطلب مسالک کا انضمام یا فقہی اختلافات کا خاتمہ نہیں، بلکہ اپنے اپنے فقہی موقف پر پوری دیانت کے ساتھ قائم رہتے ہوئے مشترکہ دینی و ملی مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہونا ہے۔

اسی حکیمانہ فکر کا نتیجہ ہے کہ اس پلیٹ فارم پر دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث، شیعہ، حنفی، شافعی، مقلد، غیر مقلد اور بوہرہ سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے علماء، دانشور اور قائدین ایک ہی صف میں ملت کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے شریکِ سفر رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ اتحاد ہندوستانی مسلمانوں کی اجتماعی بصیرت، دینی شعور اور ملی یکجہتی کی ایک درخشاں مثال ہے۔

مسلم پرسنل لا: مذہبی آزادی، آئینی تحفظ اور تہذیبی شناخت کی اساس

مسلم پرسنل لا کسی مخصوص طبقے کو حاصل کوئی خصوصی رعایت یا وقتی قانونی استثنا نہیں، بلکہ یہ ہندوستان کے دستور میں تسلیم شدہ مذہبی آزادی کا ایک فطری اور آئینی تقاضا ہے۔ اس کی بنیاد مسلمانوں کے اس بنیادی حق پر قائم ہے کہ وہ اپنی عائلی زندگی—نکاح، طلاق، خلع، وراثت، وصیت اور خاندانی معاملات—کو قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق منظم کریں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم پرسنل لا کو محض ایک قانونی ضابطہ قرار دینا اس کے حقیقی مقام و مرتبہ کو محدود کر دینا ہے، کیونکہ یہ مسلمانوں کے دینی تشخص، تہذیبی انفرادیت اور مذہبی شناخت کا بنیادی ستون ہے۔

ہندوستان کا آئین مذہبی آزادی، تہذیبی تنوع اور ثقافتی کثرت کا ضامن ہے۔ دستورِ ہند کی روح یہ ہے کہ اس ملک میں آباد ہر مذہبی گروہ کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اپنی تہذیب کو محفوظ رکھنے اور اپنے مذہبی و عائلی معاملات کو اپنے عقیدے کے مطابق انجام دینے کی آزادی حاصل رہے۔ یہی ہندوستان کی صدیوں پر محیط گنگا جمنی تہذیب، قومی یکجہتی اور جمہوری اقدار کی بنیاد بھی ہے۔

اسی حقیقت کے پیشِ نظر مسلم پرسنل لا کا تحفظ کسی ایک طبقے یا جماعت کا مسئلہ نہیں، بلکہ آئین کی بالادستی، مذہبی آزادی اور ہندوستان کے تکثیری تشخص کے تحفظ کا مسئلہ بھی ہے۔ اگر کسی ایک مذہبی طبقے کے مسلمہ مذہبی حقوق کو محدود کرنے کی روایت قائم ہو جائے تو اس کے اثرات دیگر مذہبی اور ثقافتی اکائیوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس لیے یہ معاملہ صرف مسلمانوں کا نہیں، بلکہ ہندوستان کے دستوری مزاج اور جمہوری روایت سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔

موجودہ حالات میں ہماری ذمہ داریاں

موجودہ حالات مسلمانوں سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ جذباتیت، انتشار اور باہمی اختلافات سے بلند ہو کر حکمت، اتحاد اور بصیرت کے ساتھ اپنے دینی اور دستوری حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ہوں۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی ملت نے اتحاد کا دامن مضبوطی سے تھاما، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے آسانیاں پیدا فرمائیں، اور جب اختلافات نے جگہ لی تو اجتماعی قوت کمزور ہوئی۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسلمان اپنے اندر شریعت سے وابستگی کو مضبوط کرے، اپنے خاندان میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دے، نوجوان نسل کو اسلامی تہذیب سے جوڑے، اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسے تمام اجتماعی اقدامات کا حصہ بنے جو مذہبی آزادی، ملی تشخص اور قومی ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ ہوں۔

اس موقع پر یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اختلافِ رائے اپنی جگہ ایک علمی حقیقت ہے، لیکن مشترکہ ملی مسائل میں اتحاد، باہمی اعتماد اور حسنِ ظن وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ملت اپنی دینی شناخت بھی محفوظ رکھ سکتی ہے اور ملک کی تعمیر و ترقی میں بھی مثبت کردار ادا کر سکتی ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی موجودہ اہمیت

ان حالات میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ذمہ داری اور اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہ ادارہ نصف صدی سے مسلمانوں کے مذہبی و عائلی حقوق کی آئینی اور پُرامن انداز میں ترجمانی کرتا چلا آرہا ہے۔ اس نے ہر دور میں مسلمانوں کو صبر، حکمت، اعتدال، اتحاد اور قانونی جدوجہد کا راستہ دکھایا ہے، اور یہی وہ اسلوب ہے جو ایک جمہوری معاشرے میں دیرپا نتائج کا ضامن بن سکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ملت اس اجتماعی پلیٹ فارم کو مضبوط کرے، اس کی جائز اور آئینی کوششوں کا تعاون کرے، اور اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ان مسائل میں متحد ہو جائے جن کا تعلق پوری ملت کے مستقبل، دینی تشخص اور مذہبی آزادی سے ہے۔

وقف، موجودہ قانونی چیلنجز اور اجتماعی بیداری کی ناگزیر ضرورت

وقف اسلامی تہذیب کا ایک ایسا روشن اور زندہ ادارہ ہے جس نے صدیوں تک دینی، تعلیمی، سماجی اور رفاہی خدمات کی آبیاری کی ہے۔ اسلام نے مال و دولت کو محض ذاتی منفعت کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ اس کے ایک حصے کو دائمی خیر اور اجتماعی فلاح کے لیے وقف کرنے کی ترغیب دی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں مساجد، مدارس، مکاتب، خانقاہیں، یتیم خانے، شفاخانے، مسافر خانے، قبرستان اور بے شمار رفاہی ادارے وقف ہی کے وسائل سے قائم اور آباد رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وقف محض زمین یا جائیداد کا نام نہیں، بلکہ امت کی دینی، علمی اور تہذیبی زندگی کا ایک مضبوط ستون ہے۔

ہندوستان میں بھی وقف کی جائیدادیں مسلمانوں کی دینی، تعلیمی اور سماجی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ یہ جائیدادیں کسی فرد یا خاندان کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے نام پر امت کے اجتماعی مفاد کے لیے مخصوص ہیں۔ اس لیے ان کا تحفظ صرف ایک قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک شرعی، اخلاقی اور ملی ذمہ داری بھی ہے۔

وقف کے سلسلے میں موجودہ چیلنج

گزشتہ چند برسوں میں وقف سے متعلق قانونی تبدیلیوں اور مجوزہ ترامیم نے ملک بھر کے مسلمانوں میں تشویش پیدا کی ہے۔ ان خدشات کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وقف کی خود مختاری، اس کے انتظامی ڈھانچے اور اس کی املاک کے تحفظ سے متعلق متعدد سوالات سامنے آئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس موضوع پر علماء، ماہرینِ قانون اور مختلف ملی تنظیموں نے اپنے اپنے نقطۂ نظر کا اظہار کیا ہے اور آئینی طریقوں سے اپنی آراء متعلقہ اداروں تک پہنچائی ہیں۔

ایسے معاملات میں جذباتی نعروں کے بجائے سنجیدہ علمی بحث، آئینی شعور اور قانونی جدوجہد ہی وہ راستہ ہے جو کسی بھی جمہوری معاشرے میں مؤثر اور دیرپا نتائج پیدا کرسکتا ہے۔ اختلافِ رائے کا اظہار بھی قانون اور دستور کے دائرے میں ہونا چاہیے، کیونکہ یہی جمہوری طرزِ عمل کی علامت ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا مؤقف اور کردار

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ہمیشہ وقف کے تحفظ کو ملت کا ایک اہم اجتماعی مسئلہ قرار دیا ہے۔ بورڈ کا مؤقف یہ رہا ہے کہ وقف سے متعلق کسی بھی قانون سازی میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات، شرعی اصولوں، آئینی حقوق اور متعلقہ فریقوں کی آراء کو پوری سنجیدگی سے ملحوظ رکھا جانا چاہیے۔

اسی مقصد کے تحت بورڈ نے مختلف مواقع پر علماء، ماہرینِ قانون، دانشوروں اور عوام کے درمیان بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ قانونی اور جمہوری ذرائع اختیار کرتے ہوئے اپنی رائے مؤثر انداز میں متعلقہ اداروں تک پہنچائیں۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی علامت ہے کہ ملت اپنے مسائل کا حل تصادم میں نہیں بلکہ آئین، قانون اور اجتماعی حکمت کے اندر تلاش کرنا چاہتی ہے۔

وقت کا اہم تقاضا: اتحاد، شعور اور مثبت کردار

موجودہ حالات کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان باہمی اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے اپنے مشترکہ مسائل پر متحد ہوں۔ اختلافِ مسلک یا فقہی تنوع اپنی جگہ ایک علمی حقیقت ہے، لیکن جب معاملہ شریعت، مذہبی آزادی، دینی اداروں اور ملی تشخص کا ہو تو امت کی وحدت ہی اس کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

اس وقت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دینی شعور میں اضافہ کرے، نوجوان نسل کو شریعت کی اہمیت سے آگاہ کرے، اپنے دستوری حقوق کو سمجھے، اور ہر ایسے اجتماعی اقدام میں شریک ہو جو ملک کے آئین، قانون اور جمہوری اقدار کے دائرے میں رہتے ہوئے مذہبی آزادی، قومی یکجہتی اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہو۔

ملت کی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جب بھی اس نے اتحاد، صبر، حکمت اور بصیرت کو اپنا شعار بنایا، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دیے۔ آج بھی کامیابی کا راستہ یہی ہے کہ ہم جذبات کے بجائے تدبر، انتشار کے بجائے اجتماعیت، اور مایوسی کے بجائے امید و استقامت کو اختیار کریں۔

یکساں سول کوڈ، ہندوستان کی تکثیری شناخت اور مسلم پرسنل لا کی آئینی حیثیت

ہندوستان اپنی سرزمین، تاریخ اور تہذیب کے اعتبار سے ایک ایسا منفرد ملک ہے جہاں صدیوں سے مختلف مذاہب، تہذیبوں، زبانوں اور ثقافتوں کے ماننے والے باہمی احترام اور بقائے باہمی کے ساتھ زندگی گزارتے آئے ہیں۔ یہی مذہبی و ثقافتی تنوع ہندوستان کی اصل شناخت اور اس کی جمہوری روح ہے۔ دستورِ ہند نے بھی اسی تاریخی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے تمام شہریوں کو مذہبی آزادی، تہذیبی انفرادیت اور اپنے مذہبی شعائر پر عمل کرنے کا بنیادی حق عطا کیا ہے۔

اسی تناظر میں مسلم پرسنل لا محض ایک قانونی نظام نہیں بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبی شناخت، عائلی زندگی اور شرعی احکام سے وابستگی کا عملی اظہار ہے۔ نکاح، طلاق، خلع، وراثت، وصیت اور خاندانی معاملات اسلام کے نزدیک صرف سماجی رسمیں نہیں بلکہ دینی احکام ہیں، جن کی بنیاد قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ پر قائم ہے۔ اس لیے مسلمان انہیں محض قانونی ضابطوں کے طور پر نہیں بلکہ دینی فریضہ سمجھ کر اختیار کرتے ہیں۔

اتحاد میں قوت، تنوع میں حسن

یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ہندوستان کا حسن اس کی وحدت میں پوشیدہ تنوع ہے۔ مختلف مذہبی اور ثقافتی روایات کا احترام ہی اس ملک کی اجتماعی طاقت رہا ہے۔ چنانچہ ایسا کوئی بھی قومی مکالمہ جو شخصی قوانین یا دیگر حساس موضوعات سے متعلق ہو، اس میں تمام متعلقہ طبقات کے تحفظات، آراء اور دستوری حقوق کو سنجیدگی سے سننا اور ملحوظ رکھنا جمہوری روایت کا تقاضا ہے۔

ملتِ اسلامیہ کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے موقف کو دلیل، حکمت، آئینی شعور اور پُرامن ذرائع کے ساتھ پیش کرے۔ جذباتی ردِّعمل یا باہمی انتشار کسی بھی اجتماعی مقصد کو کمزور کرتا ہے، جبکہ اتحاد، بردباری اور منظم کوششیں دیرپا اثرات مرتب کرتی ہیں۔

موجودہ حالات میں ہماری اجتماعی ذمہ داریاں

آج کا دور مسلمانوں سے غیر معمولی بصیرت اور سنجیدگی کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اپنے ایمان، اپنے خاندان اور اپنی نئی نسل کی دینی تربیت پر توجہ دینی ہوگی۔ شریعت کا تحفظ صرف اجتماعات، قراردادوں یا بیانات سے نہیں ہوگا، بلکہ اس وقت ہوگا جب ہر مسلمان اپنے گھر کو شریعت کا نمونہ بنائے، اپنے معاملات میں دیانت اختیار کرے، اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات سے وابستہ رکھے اور اپنے کردار سے اسلام کی صحیح تصویر پیش کرے۔

اسی کے ساتھ ملت کو اپنے اجتماعی اداروں، دینی مراکز اور نمائندہ تنظیموں سے مضبوط تعلق قائم رکھنا چاہیے۔ اجتماعی مسائل کا حل انفرادی آوازوں سے نہیں بلکہ منظم، متحد اور آئینی جدوجہد سے حاصل ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان اپنے اکابر کی قیادت میں متحد ہوئے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے آسانیاں پیدا فرمائیں۔

امید، حکمت اور استقامت کا راستہ

حالات خواہ کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، مسلمان کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا۔ اس کا سرمایۂ حیات ایمان، صبر، دعا، حکمت اور مسلسل جدوجہد ہے۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ حق کی حفاظت صرف نعروں سے نہیں بلکہ علم، کردار، اتحاد، صبر اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل سے ہوتی ہے۔

اس لیے وقت کا پیغام یہی ہے کہ ہم اپنے دینی تشخص، آئینی حقوق اور قومی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے ملک میں امن، عدل، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ یہی اکابرِ امت کا راستہ ہے، یہی دستورِ ہند کی روح ہے اور یہی ایک باشعور، باوقار اور ذمہ دار شہری کی پہچان بھی ہے۔

شیئر کریں۔