دہلی فسادات 2020 سے متعلق مبینہ بڑی سازش کے مقدمے میں سالوں سے جیل میں بند سابق اسکالر اور طلبہ رہنما شرجیل امام نے ضمانت کے لیے ایک بار پھر دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ شرجیل امام نے ٹرائل کورٹ کے اس حالیہ فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس کے تحت گزشتہ 4 جولائی کو ان کی باقاعدہ ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ عدالتی ذرائع کے مطابق، اس اہم اپیل پر کل یعنی جمعہ کے روز دہلی ہائی کورٹ کی ایک ڈویژن بنچ سماعت کرے گی، جس میں جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس وکاس مہاجن شامل ہیں۔
شرجیل امام کے وکلاء نے اس پٹیشن کے ذریعے نچلی عدالت کے فیصلے پر قانونی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ٹرائل کورٹ نے اپنے 4 جولائی کے حکم نامے میں کہا تھا کہ چونکہ سپریم کورٹ نے گلفشاں فاطمہ اور سید افتخار اندرابی کے مقدمات کو ایک بڑی بنچ کے پاس بھیج دیا ہے، اس لیے جب تک سپریم کورٹ کی جانب سے یو اے پی اے (UAPA) کے تحت ضمانت کے اصولوں پر حتمی وضاحت سامنے نہیں آ جاتی، وہ شرجیل امام کی ضمانت پر غور نہیں کر سکتی۔ ٹرائل کورٹ نے واضح کیا تھا کہ اس کے پاس سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے جس میں کہا گیا تھا کہ گواہوں کے بیانات مکمل ہونے یا عدالتی حکم کے ایک سال بعد ہی ضمانت کے لیے دوبارہ درخواست دی جا سکتی ہے۔
اس پورے معاملے کا پس منظر انتہائی پیچیدہ قانونی بحث سے جڑا ہوا ہے۔ رواں سال 5 جنوری کو سپریم کورٹ نے اسی کیس کے کئی ملزمان بشمول گلفشاں فاطمہ، میرا حیدر، شفاء الرحمن اور شاداب احمد کو ضمانت دی تھی، لیکن عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانتیں مسترد کر دی گئی تھیں۔ تاہم، بعد میں جسٹس بی وی ناگرتنا کی قیادت والی ایک دوسری سپریم کورٹ بنچ نے اس فیصلے پر اختلاف ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ طویل حراست اور ٹرائل میں تاخیر خود ضمانت کی مضبوط بنیاد ہے، جیسا کہ سپریم کورٹ نے 2021 کے تاریخی ‘یونین آف انڈیا بنام کے اے نجیب’ کیس میں تسلیم کیا تھا۔ عدالتوں کے درمیان اسی تشریح کے تصادم کی وجہ سے مئی میں یہ معاملہ ایک بڑی بنچ کو بھیج دیا گیا تھا۔
یہ پورا مقدمہ دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی جانب سے درج کردہ ایف آئی آر نمبر 59/2020 سے متعلق ہے، جس میں تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے ساتھ ساتھ سخت گیر انسدادِ دہشت گردی قانون یو اے پی اے (UAPA) کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کا الزام ہے کہ فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے خلاف احتجاج کے دوران ہونے والے فسادات ایک بڑی اور سوچی سمجھی سازش کا حصہ تھے۔ اس کیس میں شرجیل امام کے ساتھ ساتھ عمر خالد، خالد سیفی، طاہر حسین، میران حیدر، صفورہ زرگر اور نتاشا نروال سمیت کئی سرگرم کارکنوں اور رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔
شرجیل امام کے حامیوں اور قانونی ماہرین کا موقف ہے کہ طویل عرصے تک بغیر کسی عدالتی سزا یا ٹرائل کے کسی شہری کو قید رکھنا بنیادی انسانی حقوق اور آئین کی دفعہ 21 کے تحت حاصل شخصی آزادی کے اصولوں کے خلاف ہے۔ دہلی ہائی کورٹ میں کل ہونے والی یہ سماعت انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس کے نتائج نہ صرف شرجیل امام بلکہ اسی مقدمے کے تحت سالوں سے بند دیگر سیاسی و سماجی قیدیوں کی رہائی کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔




