گجرات پولیس کی ‘ریڈیکلائزیشن’ چیک لسٹ میں داڑھی اور نقاب شامل، رپورٹ پر انسانی حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی برہم

ریاست گجرات سے ایک انتہائی تشویشناک اور دور رس اثرات کا حامل معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں گجرات پولیس کی ایک مبینہ خفیہ دستاویز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شہری حقوق کے علمبرداروں، مسلم تنظیموں اور سیکولر حلقوں میں شدید بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس دستاویز میں مسلمانوں کی عام مذہبی شناخت، ثقافتی اقدار اور روزمرہ کے عبادتی معمولات کو ممکنہ ’’انتہاپسندی‘‘ (Radicalisation) کی علامات قرار دے کر پولیس کو ان پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ منظر عام پر آنے والی یہ دستاویز مبینہ طور پر گجرات اسٹیٹ انٹیلی جنس بیورو (ایس آئی بی) کی جانب سے تیار کی گئی ہے، جس پر تاحال گجرات حکومت یا محکمہ داخلہ کی طرف سے کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

دستیاب دستاویزات اور رپورٹس کے مطابق، گجرات کے محکمہ داخلہ نے ریاست کے ہر ضلع اور پولیس کمشنری کے تحت اینٹی ریڈیکلائزیشن سیل (اے آر سی) قائم کرنے کی اصولی منظوری دی ہے۔ اس سلسلے میں جاری کردہ ایک مبینہ سرکیولر میں پولیس فورس کو ایک مخصوص اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر (ایس او پی) پر عمل درآمد کرنے اور اپنی کارروائیوں کی ماہانہ رپورٹ اعلیٰ حکام کو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس ایس او پی کے تحت پولیس کو ایسے افراد کے رویے، ڈیجیٹل سرگرمیوں، سماجی روابط اور روزمرہ کی زندگی پر خفیہ نظر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جن میں انتہاپسندانہ رجحانات پائے جاتے ہوں۔ تاہم، اس فریم ورک میں انتہاپسندی کی جو علامات بیان کی گئی ہیں، انہوں نے ایک نیا اور سنگین تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

مبینہ دستاویز میں جن سرگرمیوں اور علامات کو مشکوک قرار دیا گیا ہے، ان میں ایک مسلمان کا باقاعدگی سے مسجد جانا، مذہبی گروپس سے قربت اختیار کرنا، رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسجد کے اندر اعتکاف میں بیٹھنا، سنت کے مطابق داڑھی رکھنا، مسلم خواتین کا نقاب یا برقع پہننا اور باہمی بول چال میں روایتی عربی انداز کے سلام (جیسے السلام علیکم) کا کثرت سے استعمال کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مذہبی ترجیحات کے لیے تعلیم یا نوکری چھوڑنا، دنیا بھر کے مسلمانوں کے مسائل یا مشرق وسطیٰ اور افغانستان کے تنازعات پر تشویش کا اظہار کرنا، سگنل اور وی پی این (VPN) جیسی محفوظ پیغام رسانی کی ایپس کا استعمال کرنا اور سوشل میڈیا پر داعش جیسی ممنوعہ تنظیموں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہونا بھی ان علامات کا حصہ بتایا گیا ہے۔

اس مبینہ دستاویز کے منظر عام پر آنے کے بعد انسانی حقوق کی ممتاز کارکن شبنم ہاشمی نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس پورے فریم ورک کو ’’ریاستی سرپرستی میں کی جانے والی فرقہ وارانہ پروفائلنگ‘‘ قرار دیتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے اس کے خلاف آواز اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شبنم ہاشمی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے نام پر گجرات حکومت کھلے عام اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور ریاستی مشنری کا استعمال عام شہریوں کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو جرم کے زمرے میں لانے کے لیے کیا جا رہا ہے، جو کہ ہندوستانی آئین کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی پر ایک براہِ راست اور سنگین حملہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں یہ دستاویز احمد آباد کے ایک مقامی صحافی سہل قریشی کے ذریعے موصول ہوئی، جس کا ترجمہ کر کے انہوں نے ملک کے تمام اہم میڈیا ہاؤسز اور سیاسی رہنماؤں کو بھیج دیا ہے۔

انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں عقیدے، لباس اور پرامن نظریاتی گفتگو پر پولیس کی اس نوعیت کی کڑی نگرانی وفاقی اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور ہندوستانی آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر آزادی کے ساتھ عمل کرنے کی مکمل ضمانت دیتے ہیں۔ اس طرح کی مبینہ گائیڈ لائنز سے نہ صرف مسلم کمیونٹی کے اندر عدم تحفظ اور خوف کا احساس بڑھے گا، بلکہ پولیس کو عام شہریوں کو ہراساں کرنے کا ایک خطرناک لائسنس بھی مل جائے گا۔ آنے والے دنوں میں اس مبینہ سرکیولر پر گجرات حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ایک بڑا سیاسی محاذ کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

شیئر کریں۔