راجستھان ہائی کورٹ نے ریاست میں ہند-پاک بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع مساجد، مدارس اور درگاہوں کے خلاف حکومت کی جانب سے جاری بے دخلی اور انہدامی نوٹسز پر عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے اس کارروائی کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر معاملے کی انفرادی سطح پر جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے، جس کی سفارشات کی روشنی میں ہی کوئی حتمی قدم اٹھایا جائے۔
جسٹس سمیر جین پر مشتمل سنگل بنچ نے اس حساس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ مذہبی تفریق کا نہیں بلکہ خالصتاً قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔ عدالت کا موقف تھا کہ فطری انصاف کے اصول اپنی جگہ اہم ہیں لیکن قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ منہدم کرنے یا بے دخل کرنے سے متعلق کوئی بھی کارروائی ریاستی حکومت کی تشکیل کردہ کمیٹی کی باقاعدہ سفارش کے بعد ہی عمل میں لائی جائے گی۔ ان ہدایات کے ساتھ عدالت نے پیر محمد شاہ جیلانی درگاہ کمیٹی اور دیگر کی جانب سے دائر کردہ تمام عرضیاں خارج کر دیں۔
اس عدالتی کارروائی کا پس منظر یہ ہے کہ جون میں مرکزی حکومت کی جانب سے ایک اعلان سامنے آیا تھا جس کے تحت ہند-پاک سرحد سے پچاس کلومیٹر کے دائرے میں واقع مساجد، مدارس اور درگاہوں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس اعلان کے بعد جیسلمیر، باڑمیر اور بیکانیر کے سرحدی اضلاع میں انتظامیہ کی جانب سے نوٹسز جاری کیے گئے تھے۔ عرضی گزاروں نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ کچھ مذہبی مقامات کو پہلے ہی منہدم کیا جا چکا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ صدیوں پرانی درگاہوں اور مساجد کو بھی اسی طرح نشانہ بنایا جائے گا۔
اس فیصلے نے سرحدی علاقوں میں مقیم مسلم آبادی میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع یہ مساجد اور درگاہیں نہ صرف مقامی مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز ہیں بلکہ ان کی ایک طویل تاریخی اور ثقافتی حیثیت بھی ہے۔ ریاستی کارروائی کے نتیجے میں ان مذہبی مقامات کے خاتمے کے خدشات نے کمیونٹی کے اندر عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا دیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی پر مسلسل بحث جاری ہے، اس قسم کے اقدامات کو انسانی حقوق کے تناظر میں بھی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
اب تمام تر توجہ ریاستی حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی اس کمیٹی پر مرکوز ہے جو ہر کیس کا الگ سے جائزہ لے گی۔ اس کمیٹی کی شفافیت اور غیر جانبداری اس بات کا تعین کرے گی کہ ان تاریخی اور مذہبی مقامات کا مستقبل کیا ہوگا۔ قانونی ماہرین اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے تاکہ اقلیتوں کے مذہبی تشخص کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
قومی سلامتی بلا شبہ کسی بھی ملک کی اولین ترجیح ہوتی ہے، تاہم جمہوری اور آئینی اقدار کا تقاضا ہے کہ ایسے معاملات میں اقلیتوں کے حقوق، ان کے مذہبی جذبات اور تاریخی ورثے کا مکمل احترام کیا جائے۔ ریاستی اداروں پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس عمل کو شفاف، منصفانہ اور ہر قسم کے تعصب سے پاک رکھیں۔



