جنتر منتر پر قومی امتحانی نظام میں شفافیت اور پیپر لیک جیسے مسائل کے خلاف نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کا احتجاج اب ایک ملکی تحریک کی شکل اختیار کر رہا ہے۔ اس تحریک کے بانی ابھیجیت دپکے کی قیادت میں جاری اس پرامن مظاہرے اور معروف ماہر تعلیم سونم وانگ چک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ تعلیم میں بنیادی اصلاحات کے مطالبے پر مبنی اس تحریک کو اب سیاسی رہنماؤں، فلمی ستاروں، ادیبوں اور سماجی کارکنوں کی وسیع حمایت حاصل ہو رہی ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال سترہویں روز میں داخل ہو چکی ہے اور ان کے جسمانی وزن میں تقریباً ساڑھے آٹھ کلوگرام کی کمی واقع ہوئی ہے۔ صحت مسلسل بگڑنے کے باوجود انہوں نے اپنا احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ کیمپ میں موجود طبی رضاکار ان کی حالت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس تحریک کو اس وقت نئی توانائی ملی جب شیو سینا (یو بی ٹی) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے، عام آدمی پارٹی کی سینئر رہنما آتشی، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور بالی ووڈ اداکار اومی ویدیہ سمیت کئی نامور شخصیات نے اس کی حمایت کا اعلان کیا۔ ادھو ٹھاکرے نے واضح کیا کہ نوجوانوں کا یہ مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پورے ملک کے مستقبل کا سوال ہے، جبکہ آتشی نے دہلی کی سابق میئر شیلی اوبرائے کے ہمراہ جنتر منتر پہنچ کر مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس معاملے نے اس وقت مزید زور پکڑا جب فلم تھری ایڈیٹس کے مشہور اداکار اومی ویدیہ نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ حقیقی زندگی کے فنسکھ وانگڈو کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے اور عوام کو ان کی آواز سننی چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی معروف ادیبہ اروندھتی رائے، سینئر اداکار نصیر الدین شاہ اور رتنا پاٹھک شاہ نے ایک مشترکہ اپیل کے ذریعے سونم وانگ چک کی گرتی ہوئی صحت پر گہری تشویش ظاہر کی۔ ان شخصیات کا ماننا ہے کہ تحریک کے مطالبات اپنی جگہ انتہائی اہم ہیں لیکن قیادت کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے، اس لیے وانگ چک کو اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دینی چاہیے۔
اس احتجاج اور نامور شخصیات کی حمایت نے مرکزی حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان امتحانی نظام میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی وجہ سے خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ ملک بھر سے موصول ہونے والے یکجہتی کے پیغامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام تعلیمی نظام کی خامیوں سے تنگ آ چکے ہیں اور فوری اصلاحات کے متلاشی ہیں۔ نوجوانوں کی یہ بیداری ملکی سیاست اور پالیسی سازی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دپکے نے واضح کیا ہے کہ ان کا یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں رہے گا۔ تاہم احتجاجی قیادت کی جانب سے یہ وارننگ دی گئی ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا اور کوئی بامعنی مذاکرات شروع نہ کیے تو بیس جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کیا جائے گا۔ اس مارچ میں ملک بھر سے طلبہ، سماجی کارکن اور حامیوں کی بڑی تعداد شرکت کی تیاری کر رہی ہے۔
اس وقت تمام تر نگاہیں مرکزی حکومت اور وزارت تعلیم پر مرکوز ہیں کہ وہ اس حساس اور قومی نوعیت کے مسئلے پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ جمہوری معاشرے میں نوجوانوں کی آواز کو طاقت کے بجائے مکالمے اور افہام و تفہیم سے سنا جانا انتہائی ضروری ہے۔ حکومت کی فوری اور مثبت پیش رفت ہی اس تحریک کو پرامن انجام تک پہنچانے اور لاکھوں طلبہ کا اعتماد بحال کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔



