سپریم کورٹ آف انڈیا نے مدھیہ پردیش کے متنازعہ بھوج شالہ کمال مولیٰ مسجد کمپلیکس کے حوالے سے دائر درخواستوں پر نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ ان درخواستوں میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے اس حالیہ فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا جس میں اس تاریخی مقام کو ہندو دیوتا سرسوتی کا مندر قرار دیا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے فی الحال ہائی کورٹ کے فیصلے سے قبل کی صورتحال بحال کرنے اور کمپلیکس کے اندر نماز جمعہ کی اجازت دینے کا عبوری حکم جاری کرنے سے گریز کیا ہے۔
جسٹس سوریا کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل سپریم کورٹ بینچ نے اس حساس معاملے پر سماعت کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ فی الحال ایسا کوئی حکم جاری نہیں کرے گی جس سے علاقے میں کشیدگی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔ البتہ مسلم کمیونٹی کی سہولت کے پیش نظر عدالت نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ کمپلیکس سے متصل ایک کھلی جگہ فراہم کرے تاکہ مسلمان جمعہ کے دن دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان اپنی نماز ادا کر سکیں۔ یہ ایک عارضی انتظام ہوگا جو اس کیس کے حتمی فیصلے سے مشروط ہوگا۔
اس تنازعہ کا پس منظر یہ ہے کہ پندرہ مئی کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے دھار ضلع میں واقع اس عمارت کو ہندو مندر قرار دیتے ہوئے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے دو ہزار تین کے اس حکم نامے کو کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے تحت ہندوؤں کو منگل کے دن پوجا اور مسلمانوں کو جمعہ کے دن نماز پڑھنے کی اجازت تھی۔ ہائی کورٹ نے مسلم فریق کو ضلع کے اندر مسجد کی تعمیر کے لیے متبادل زمین تلاش کرنے کا بھی کہا تھا۔ اس کے علاوہ مارچ میں ایک ہندو تنظیم کی درخواست پر اے ایس آئی کو اس مقام کا سروے کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس کی جولائی کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ مسجد کی تعمیر میں پرانے مندروں کے حصوں کا استعمال کیا گیا تھا۔
اس عدالتی پیش رفت کا براہ راست اثر مقامی مسلم کمیونٹی کے مذہبی حقوق اور خطے کے امن و امان پر پڑے گا۔ عبوری طور پر نماز کے لیے متصل جگہ کی فراہمی سے فوری طور پر تناؤ میں کمی لانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن تاریخی مقام کے حوالے سے تشویش برقرار ہے۔ یہ مقدمہ ملک میں عبادت گاہوں کے تنازعات اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم قانونی نظیر بنتا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب تاریخی مساجد کے حوالے سے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔
سپریم کورٹ نے سختی سے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو ہدایت دی ہے کہ وہ عدالت کی پیشگی اجازت کے بغیر اس کمپلیکس میں کسی قسم کی ساختی تبدیلی یا تعمیراتی کام نہ کرے۔ اب اس معاملے کی مزید قانونی سماعت ہوگی جس میں دونوں فریقین اپنے دلائل اور شواہد پیش کریں گے اور اس کے بعد ہی اس تاریخی مقام کے مستقل مستقبل کا فیصلہ ہو سکے گا۔
قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق اس طرح کے حساس معاملات میں تاریخی حقائق، تمام فریقین کے موقف اور ملکی سالمیت کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ کا موجودہ فیصلہ امن و امان کے نقطہ نظر سے ایک توازن قائم کرنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے تاہم اقلیتی حقوق کے تحفظ اور اس دیرینہ تنازعے کا حتمی اور منصفانہ قانونی حل ابھی باقی ہے۔




