مہاراشٹر کے ضلع ستارا میں محکمہ خوراک و ادویات (ایف ڈی اے) نے ایک انتہائی تشویشناک کارروائی کرتے ہوئے نقلی دودھ بنانے والے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔ پلٹن تعلقہ میں مارے گئے اس چھاپے کے دوران افسران اس وقت حیران رہ گئے جب انہیں ایک ایسے طبیلے میں کیمیکل سے تیار کردہ دودھ کی بھاری مقدار ملی جہاں ایک بھی گائے یا بھینس موجود نہیں تھی۔
ایف ڈی اے کمشنر تکارام منڈے کی سخت ہدایات کے بعد ریاست بھر میں دودھ میں ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف مہم تیز کر دی گئی ہے۔ اسی کڑی میں محکمہ کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ نیرا ندی کے کنارے واقع ہول گاؤں کے ایک طبیلے میں مشکوک سرگرمیاں جاری ہیں۔ جب ٹیم نے اچانک کارروائی کرتے ہوئے اس مقام پر چھاپہ مارا تو وہاں کوئی مویشی نہیں پایا گیا، البتہ دودھ بنانے والے خطرناک کیمیکلز اور دیگر مشکوک آلات کا بڑا ذخیرہ برآمد ہوا۔
شہری ایک طویل عرصے سے خالص دودھ کے حصول کے لیے اس نام نہاد طبیلے کے باہر قطاریں لگاتے تھے۔ انہیں اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ جو دودھ وہ اپنے بچوں کی صحت کے لیے خرید رہے ہیں، وہ دراصل کیمیائی عمل سے گزر کر تیار ہونے والا مضر صحت مائع ہے۔ مقامی سطح پر نقلی دودھ کی فروخت کا یہ کالا دھندہ طویل عرصے سے جاری تھا جس پر اب انتظامیہ نے قانونی شکنجہ کسا ہے۔
چھاپہ مار ٹیم نے جائے وقوعہ سے تمام کیمیکل اور نقلی دودھ بنانے کا سامان ضبط کر کے اسے لیبارٹری ٹیسٹنگ کے لیے بھیج دیا ہے۔ اس سنگین واقعے کے بعد ملزمان کے خلاف پلٹن دیہی پولیس اسٹیشن میں باضابطہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور پولیس اس پورے ریکیٹ کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تفتیش کر رہی ہے۔
اس کارروائی کے بعد مقامی شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پلٹن اور اطراف کے علاقوں میں سرگرم ایسے دیگر تمام مافیاز کے خلاف بھی جامع کریک ڈاؤن کیا جائے۔ عوام کا ماننا ہے کہ انسانی جانوں بالخصوص بچوں کی صحت کے ساتھ کھیلا جانے والا یہ جان لیوا کھیل صرف ملاوٹ کا جرم نہیں بلکہ ایک سنگین مجرمانہ فعل ہے جسے سختی سے کچلا جانا چاہیے۔



