اتر پردیش کی سیاست اور مسلم اوقاف کے انتظام و انصرام کے حوالے سے ایک بڑی اور انتہائی دور رس اثرات کی حامل پیشرفت سامنے آئی ہے۔ یوپی کے اقلیتی بہبود اور وقف کے وزیر مملکت دانش آزاد انصاری نے واضح کیا ہے کہ مرکزی حکومت کے ذریعے نافذ کردہ حالیہ وقف ترمیمی قانون کو لاگو کرنا ملک کی تمام ریاستوں کے لیے قانونی طور پر لازمی ہے، اور اسی کے تحت اتر پردیش میں بھی وقف بورڈ کو مقررہ نئے اصولوں اور ضابطوں کے مطابق دوبارہ منظم کیا جائے گا۔ اس نئے نظام کے تحت بورڈ میں دو غیر مسلم ممبران کو بھی لازمی طور پر شامل کیا جائے گا، جس کے بعد ریاستی وقف بورڈز کے روایتی ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی واقع ہونے جا رہی ہے۔
لکھنؤ میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے دانش آزاد انصاری نے مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں دو ہندو ارکان کو شامل کیے جانے کے حالیہ فیصلے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب مرکز کی نریندر مودی حکومت نے وقف ترمیمی ایکٹ متعارف کرایا، تو اس کا دائرہ کار پورے ملک پر محیط ہے۔ قانون سازی کے بعد اب ہر ریاست کے لیے اس پر عمل درآمد کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ جب بھی مستقبل قریب میں اتر پردیش کے اندر وقف بورڈ کی تشکیل نو کا باقاعدہ عمل شروع ہوگا، تو اس کی مکمل ساخت وقف ترمیمی قانون کے تحت طے کردہ نئے قواعد و ضوابط کے عین مطابق ہوگی۔
دستیاب رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش کی موہن یادو حکومت نے اتوار کے روز ریاستی وقف بورڈ کی تشکیل نو کرتے ہوئے اس میں دو ہندو ممبران کو شامل کیا ہے۔ یہ نیا بورڈ ملک کا پہلا ریاستی سطح کا وقف بورڈ بن گیا ہے جس میں غیر مسلم یا ہندو ارکان کو نامزد کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے بعد سے ہی ملک بھر کی مسلم تنظیموں، دانشوروں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ مسلم قیادت کا موقف ہے کہ وقف املاک خالصتاً مذہبی اور خیراتی نوعیت کی ہوتی ہیں جنہیں مسلمانوں نے اللہ کی راہ میں وقف کیا ہوتا ہے، اس لیے ان کے انتظام میں غیر مسلموں کی شمولیت مسلم مذہبی امور اور خودمختاری میں مداخلت کے مترادف ہے۔
دوسری جانب حکومتی موقف کی وکالت کرتے ہوئے دانش آزاد انصاری نے دعویٰ کیا کہ مرکزی حکومت کے وقف ترمیمی قانون کا بنیادی مقصد وقف املاک کی بہتر دیکھ بھال، شفافیت اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب اتر پردیش میں وقف بورڈ کی تشکیل نو ہوگی، تو اس میں پسماندہ مسلم کمیونٹی اور خواتین کی نمائندگی کو خصوصی طور پر شامل کیا جائے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ مسلم برادری کے اندر کئی ایسے پسماندہ طبقات ہیں جنہیں ماضی میں نظر انداز کیا گیا، اور نئی قانون سازی کے ذریعے ان کی آواز کو بورڈ میں جگہ دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی، قانون کے مطابق دو غیر مسلم ارکان کو بھی بورڈ میں نامزد کیا جائے گا۔
اس پوری آئینی اور سیاسی تبدیلی کے مسلم برادری کے سماجی اور مذہبی حقوق پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پسماندہ مسلمانوں اور خواتین کی نمائندگی کے نام پر وقف بورڈز کے اختیارات کو محدود کرنا اور غیر مسلم ارکان کو شامل کرنا اوقاف کی اصل روح کے خلاف جا سکتا ہے۔ اتر پردیش میں اس قانون کے عملی نفاذ کے بعد آنے والے دنوں میں حکومت اور مسلم مذہبی اداروں کے مابین قانونی اور سیاسی تصادم میں مزید تیزی آنے کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔




