مہاراشٹرا : ندی میں بہتے نظر آئے 3 ہزار گیس سلنڈر : ویڈیو وائرل

مہاراشٹر کے ضلع رائے گڑھ میں شدید مونسون بارش اور سیلابی صورتحال کے باعث ایک سنسنی خیز اور انتہائی خطرناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایچ پی سی ایل (ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ) کے پاتال گنگا ایل پی جی بوٹلنگ پلانٹ میں پانی بھر جانے کی وجہ سے تقریباً تین ہزار گیس سلنڈر ندی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئے۔ ان سلنڈروں میں بھرے ہوئے اور خالی دونوں طرح کے گیس سلنڈر شامل ہیں جو اب پاتال گنگا ندی سے ہوتے ہوئے نشیبی علاقوں اور سمندری ساحلوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس غیر معمولی واقعے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور آفات سماوی سے نمٹنے والی ٹیموں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور ندی کے اطراف آباد دیہاتوں میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

رائے گڑھ کے ضلعی کلکٹر کشور جاولے نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مقامی لوگوں کے لیے ایک ہنگامی ایڈوائزری جاری کی ہے۔ انہوں نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ سمندر کے ساحل یا ندی کے کنارے بہہ کر آنے والے کسی بھی سلنڈر کو اٹھانے، چھونے یا اپنے گھر لے جانے کی ہرگز کوشش نہ کریں۔ ضلعی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ ندی کے تیز بہاؤ میں بہنے والے ان سلنڈروں کی موجودہ حالت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ محفوظ ہیں یا ان میں گیس کا اخراج ہو رہا ہے۔ تجسس، لاپروائی یا مفت استعمال کی غرض سے انہیں اٹھانا یا ان کے والو کو کھولنے کی کوشش کرنا کسی بھی وقت ایک بڑے دھماکے یا ہولناک حادثے کا سبب بن سکتا ہے جو انسانی جانوں کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوگا۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز جنگل کی آگ کی طرح وائرل ہو رہی ہیں جن میں پاتال گنگا ندی کی لہروں پر ہزاروں سرخ سلنڈروں کو تیرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انٹرنیٹ صارفین اس منظر کا موازنہ مشہور فلم ‘پشپا’ کے اس منظر سے کر رہے ہیں جہاں چندن کی لکڑیاں ندی میں بہائی جاتی ہیں۔ تاہم اس تقابل کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر عوامی بنیادی ڈھانچے، حفاظتی منصوبہ بندی اور کارپوریٹ لاپروائی پر شدید سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے ہائی پریشر گیس پلانٹ میں سیلاب سے بچاؤ کے پختہ انتظامات کیوں نہیں تھے اور اس طرح ہزاروں سلنڈروں کا بہہ جانا صرف ایک قدرتی آفت نہیں بلکہ انتظامی نظام کی ایک بڑی ناکامی ہے۔

ماہرین اور عوامی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یہ سلنڈر بہتے ہوئے گنجان آباد نشیبی دیہات تک پہنچ رہے ہیں جہاں معمولی سی چنگاری بھی کسی بڑی تباہی کو دعوت دے سکتی ہے۔ مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ محض عوام کو ‘ہاتھ نہ لگانے’ کی ہدایت دینا کافی نہیں ہے بلکہ اتنی بڑی سرکاری کمپنی کی سنگین غفلت کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیموں کو فیلڈ میں اتار کر تمام سلنڈروں کو بحفاظت قبضے میں لینا چاہیے تاکہ غریب اور بے خبر دیہاتی کسی حادثے کا شکار نہ ہوں۔

مقامی انتظامیہ اور ایچ پی سی ایل کے تکنیکی ماہرین کی ٹیمیں اب ندی کے مختلف حصوں اور ساحلی علاقوں کی نگرانی کر رہی ہیں تاکہ ان سلنڈروں کو لوکیٹ کر کے محفوظ طریقے سے نکالا جا سکے۔ پولیس اور محکمہ مال کے ملازمین کو بھی ساحلی دیہاتوں میں گشت کرنے اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے لوگوں کو باخبر رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ جب تک ندی کا بہاؤ کم نہیں ہوتا اور تمام سلنڈر برآمد نہیں کر لیے جاتے، تب تک پاتال گنگا ندی کے ارد گرد کا پورا خطہ شدید خطرے کی زد میں رہے گا۔

شیئر کریں۔