مشرق وسطی میں نیابحران ، ٹرمپ کا امریکہ ایران جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان، ایندھن کی قیمتوں میں 6 فیصدی اضافہ

عالمی سیاست اور معیشت کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک اور بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری عبوری جنگ بندی اور مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں منعقدہ نیٹو اجلاس کے دوران میڈیا نمائندوں سے انتہائی سخت لہجے میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ ان کے نزدیک اب ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ برقرار نہیں رہا۔ انہوں نے تہران کے ساتھ جاری سفارتی بات چیت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے محض وقت کا ضیاع قرار دیا ہے۔

امریکی صدر کا یہ جارحانہ فیصلہ ایران کے اندر اسی سے زائد اہداف پر امریکی فضائی حملوں کے فوری بعد سامنے آیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اگرچہ یہ اشارہ دیا کہ امریکی سفارت کار رسمی طور پر مذاکرات جاری رکھ سکتے ہیں، لیکن انہوں نے ان مذاکرات کے کسی بھی مثبت نتیجے پر پہنچنے کے امکانات کو یکسر مسترد کر دیا۔ یہ سفارتی بریک ڈاؤن ایک ایسے نازک موڑ پر ہوا ہے جب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور تہران کے جوہری پروگرام جیسے پیچیدہ مسائل پر حتمی تصفیے کے لیے بات چیت کا اگلا دور شروع ہونے والا تھا۔

امریکہ کے اس اچانک اور سخت گیر فیصلے پر ایران کی قیادت نے بھی فوری اور شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکی موقف کو کھلے عام چیلنج کرتے ہوئے ایک انتباہی پوسٹ شیئر کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں دوٹوک الفاظ میں لکھا کہ عالمی سطح پر غنڈہ گردی اور بھتہ خوری کا دور اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے اور ایران امریکی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا۔ تہران کی جانب سے اس ردعمل نے خطے میں فوجی تصادم کے خطرات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق پاکستان، قطر اور ترکی کی مشترکہ ثالثی کے نتیجے میں گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اس اہم ترین ایم او یو پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت عارضی جنگ بندی نافذ ہوئی تھی۔ اس معاہدے کے بدلے واشنگٹن نے ایران کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے اور تہران کو عالمی منڈی میں کھلے عام تیل فروخت کرنے کی اجازت دی تھی۔ تاہم موجودہ کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب عمان کے ساحل کے قریب قطری گیس لے جانے والے ایک بحری ٹینکر پر مبینہ حملہ ہوا، جس کے بعد امریکہ نے ایران کو دیے گئے تیل کی فروخت کے تمام خصوصی لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیے۔

امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد عالمی معیشت اور توانائی کی مارکیٹ میں زبردست ہلچل مچ گئی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں یکایک چھ فیصد کا بھاری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمت اچھل کر 78 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے برعکس عالمی اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہوئی ہے اور یورپی اسٹاکس میں ایک اعشاریہ چھ فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جبکہ ڈالر کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ تہران کی وزارت خارجہ نے امریکی فضائی حملوں کو قومی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کا مطالبہ کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایرانی مسلح افواج ملکی دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

شیئر کریں۔