مہاراشٹر میں یو سی سی کے نفاذ کی تیاریاں تیز، 7 رکنی کمیٹی تشکیل، 6

مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نفاذ کی سمت ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اس کا مسودہ تیار کرنے اور مختلف قانونی، سماجی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے 7 رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے اس اچانک اقدام کے بعد ریاست میں قانون سازی کے امکانات پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے، وہیں دوسری جانب اس حساس معاملے پر مختلف طبقات، خصوصاً اقلیتی حلقوں اور مسلم برادری میں شدید بے چینی اور تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں نے اس قانون کی حساسیت کے پیش نظر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع مشاورت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ریاستی اسمبلی میں اس اہم پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے واضح کیا گیا کہ سبکدوش جج جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں قائم کی گئی یہ کمیٹی یکساں سول کوڈ سے متعلق تمام قانونی، سماجی اور انتظامی امور کا تفصیلی مطالعہ کرے گی۔ کمیٹی مختلف متعلقہ فریقوں، قانونی ماہرین اور دیگر طبقات کی آرا اور تحفظات حاصل کرنے کے بعد اپنی سفارشات پر مبنی جامع رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔ ریاستی انتظامیہ نے اس مقصد کے لیے کمیٹی کو 6 ماہ کا متبادل وقت دیا ہے تاکہ وہ تمام پہلوؤں کا احاطہ کر سکے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق کمیٹی کی رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کی روشنی میں یکساں سول ضابطہ کا حتمی مسودہ تیار کیا جائے گا۔ ریاستی حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ سرمائی اجلاس کے دوران اس سے متعلق بل اسمبلی اور قانون ساز کونسل میں پیش کر دیا جائے تاکہ آئینی اور قانونی عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔ یکساں سول ضابطہ کا مقصد شادی، طلاق، وراثت، گود لینے اور دیگر خاندانی معاملات سے متعلق قوانین میں تمام شہریوں کے لیے ایک جیسا قانونی نظام نافذ کرنا ہے، جس پر مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر اقلیتی تنظیمیں طویل عرصے سے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

اس دوران کانگریس کے سینئر رہنما سچن ساونت نے حکومت کے اس اقدام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے رہنما اصولوں میں شامل یکساں سول ضابطہ کی شق سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی آئینی فکر کا حصہ تھی، اس لیے حکومت کو اس تاریخی پس منظر کا بھی اعتراف کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئینی تصور کے مطابق اس نوعیت کی کسی بھی قانون سازی کو اتفاق رائے اور وسیع مشاورت کے ذریعے ہی آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ قانونی ماہرین، مسلم برادری کے نمائندوں، وکلا اور دیگر متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی بھی فیصلہ سماجی تانے بانے کو متاثر کر سکتا ہے۔

اپوزیشن رہنما نے مزید کہا کہ اگر مجوزہ قانون تعمیری، جامع اور سبھی برادریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے والا ہوگا تو کانگریس اس کی حمایت کرے گی، لیکن اگر اسے محض سیاسی فائدے، انتخابی پولرائزیشن یا سماجی تقسیم پیدا کرنے کے مقصد سے لایا گیا تو پارٹی اس کی سخت مخالفت کرے گی۔ دوسری طرف، مسلم دانشوروں کا کہنا ہے کہ بھارت جیسے کثیر الثقافتی اور کثیر المذہب ملک میں پرسنل لا مذہبی آزادی کا حصہ ہیں، اس لیے حکومت کو کسی بھی طبقے پر یکطرفہ قوانین مسلط کرنے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ملک کی سالمیت اور جمہوریت برقرار رہے۔

شیئر کریں۔