کرناٹک میں لوک آیکت کی بڑی کارروائی، زرعی افسر سمیت 10 سرکاری ملازمین کے ٹھکانوں پر چھاپے، بھاری نقدی اور سونا ضبط

کرناٹک میں بدعنوانی اور غیر قانونی اثاثے بنانے والے سرکاری ملازمین کے خلاف لوک آیکت نے ایک مرتبہ پھر شکنجہ کس دیا ہے۔ بدھ کے روز لوک آیکت کی متعدد ٹیموں نے ریاست بھر میں بیک وقت کارروائی کرتے ہوئے 10 مختلف محکموں کے اعلیٰ سرکاری افسران کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے۔ ان تمام افسران پر اپنی سرکاری آمدنی کے جائز ذرائع سے زائد اثاثے حاصل کرنے اور بڑے پیمانے پر خرد برد کا سنگین الزام ہے۔ تلاشی مہم کے دوران ایک زرعی خاتون افسر کے گھر سے بھاری مقدار میں سونے کے زیورات اور نقد رقم برآمد کی گئی ہے جس کی گنتی اور تشخیص کے لیے محکمہ کو مقامی سناروں کی خدمات حاصل کرنی پڑیں۔

دستیاب اطلاعات کے مطابق لوک آیکت کی ٹیموں نے ریاست کے سات بڑے اضلاع بشمول بنگلورو سٹی، بنگلورو ساؤتھ، رائچور، چتردرگ، تمکورو، شیوموگا اور کلبرگی میں ان افسران کے نجی گھروں، فارم ہاؤسز اور سرکاری دفاتر کی تفصیلی تلاشی لی۔ اس تلاشی کے دوران بنگلورو میں تعینات محکمہ زراعت کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر پشپا ڈی آر کی رہائش گاہ سے ملنے والے اثاثوں نے تفتیشی حکام کو بھی حیران کر دیا۔ ان کے گھر سے ملنے والے سونے اور نقد رقم کا حجم اتنا زیادہ تھا کہ فوری طور پر اس کی مالیت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں تھا، جس کے بعد سرکاری طور پر سونے کی قیمت اور وزن کا پتہ لگانے کے لیے ماہرین کو موقع پر بلایا گیا۔

لوک آیکت کی اس تلاشی مہم کی زد میں آنے والے دیگر بڑے ناموں میں کرشنا بھاگیہ جل نگم لمیٹڈ رائچور کے ایگزیکٹو انجینئر بنسا گوڑ پاٹل، یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز چتردرگ کے اسسٹنٹ پروفیسر شنکر ایم اور واٹرشیڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے رینج فاریسٹ آفیسر دگپا بی ایچ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ تعمیرات عامہ کے ایگزیکٹو انجینئر نریندر کمار، کے آر آئی ڈی ایل بنگلورو رینج کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر پروین بی سری ہری، تمکرو کے مائنر اریگیشن ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ انجینئر مدھو سودن این، کمبلگوڈو پنچایت کے پی ڈی او تھمے گوڑا، شیوموگا فاریسٹ ریسرچ ڈویژن کے اسسٹنٹ کنزرویٹر کرن آنگڑی اور کلبرگی بجلی سپلائی کمپنی کے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر امرت راؤ کے خلاف بھی مقدمہ درج کر کے تلاشی لی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام کارروائیاں خفیہ اطلاعات اور ابتدائی چھان بین کے بعد عدالت سے حاصل کردہ سرچ وارنٹ کی بنیاد پر کی گئی ہیں۔ محکمہ زراعت اور باغبانی سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں میں عوامی فنڈز کی خرد برد کی عوامی شکایات موصول ہو رہی تھیں، جس کے بعد لوک آیکت کی انٹیلیجنس ونگ نے ان افسران کی مانیٹرنگ شروع کی تھی۔ ان افسران کی تنخواہ اور ان کے طرز زندگی سمیت ان کے اہل خانہ کے نام پر خریدی گئی جائیدادوں کے دستاویزات کو اب سرکاری قبضے میں لے کر قانونی جانچ کا حصہ بنا دیا گیا ہے تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ یہ املاک جائز کمائی سے میل نہیں کھاتیں۔

لوک آیکت کے اعلیٰ حکام کے مطابق تمام مقامات پر ضبط کیے گئے دستاویزات، بینک لاکرز، جائیداد کے کاغذات اور نقد رقم کی حتمی فہرست تیار کی جا رہی ہے۔ ابتدائی کارروائی مکمل ہونے کے بعد تمام ملزم افسران کو باقاعدہ پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا جائے گا اور انہیں اپنے اثاثوں کے قانونی ذرائع ثابت کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اگر افسران تسلی بخش جواب فراہم کرنے میں ناکام رہے تو انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت سخت ترین قانونی چارہ جوئی کی جائے گی اور ان کی غیر قانونی جائیدادوں کو ضبط کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

شیئر کریں۔